کشتیءنوح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 29 of 566

کشتیءنوح — Page 29

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۲۹ کشتی نوح شہوت کے خیال سے نامحرم عورتوں کو مت دیکھ اور بجز اس کے دیکھنا حلال بلکہ وہ کہتا ہے کہ ہرگز نہ دیکھ نہ بدنظری سے اور نہ نیک نظری سے کہ یہ سب تمہارے لئے ٹھوکر کی جگہ ہے بلکہ چاہیے کہ نامحرم کے مقابلہ کے وقت تیری آنکھ خوابیدہ رہے تجھے اس کی صورت کی کچھ بھی خبر نہ ہو مگر اسی قدر جیسا کہ ایک دھندلی نظر سے ابتدا نزول الماء میں انسان دیکھتا ہے۔ قرآن تمہیں انجیل کی طرح یہ نہیں کہتا کہ اتنی شراب مت پیو کہ مست ہو جاؤ بلکہ وہ کہتا ہے کہ ہرگز نہ پی ورنہ تجھے خدا کی راہ نہیں ملے گی اور خدا تجھ سے ہمکلام نہیں ہوگا اور نہ پلیدیوں سے پاک کرے گا اور وہ کہتا ہے کہ یہ شیطان کی ایجاد ہے تم اس سے بچو۔ قرآن تمہیں انجیل کی طرح فقط یہ نہیں کہتا کہ اپنے بھائی پر بے سبب غصہ مت ہو بلکہ وہ کہتا ہے کہ نہ صرف اپنے ہی غصہ کو تھام بلکہ تَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِ کے پر عمل بھی کر اور دوسروں کو بھی کہتا رہ کہ ایسا کریں اور نہ صرف خود رحم کر بلکہ رحم کے لئے اپنے تمام بھائیوں کو وصیت بھی کر۔ اور قرآن تمہیں انجیل کی طرح یہ نہیں کہتا کہ بجز زنا کے اپنی بیوی کی ہر یک ناپا کی پر صبر کرو اور طلاق مت دو بلکہ وہ کہتا ہے الطَّيِّبَتُ لِلطَّيِّبِينَ کے قرآن کا یہ منشا ہے کہ ناپاک پاک کے ساتھ رہ نہیں سکتا ۔ پس اگر تیری بیوی زنا تو نہیں کرتی مگر شہوت کی ﴿۲۷﴾ نظر سے غیر لوگوں کو دیکھتی ہے اور اُن سے بغل گیر ہوتی ہے اور سے بغل گیر ہوتی ہے اور زنا کے مقدمات اُس سے صادر ہوتے ہیں گو ابھی تکمیل نہیں ہوئی اور غیر کو اپنی برہنگی دکھلا دیتی ہے اور مشرکہ اور مفسدہ ہے اور جس پاک خدا پر تو ایمان رکھتا ہے اُس سے وہ بیزار ہے تو اگر وہ باز نہ آوے تو تو اُسے طلاق دے سکتا ہے کیونکہ وہ اپنے اعمال میں تجھ سے علیحدہ ہوگئی اب تیرے جسم کا ٹکڑہ نہیں رہی ۔ پس تیرے لئے اب جائز نہیں ہے کہ تو دیوثی سے اس کے ساتھ بسر کرے کیونکہ اب وہ تیرے جسم کا ٹکڑہ نہیں ایک گندہ اور متعفن عضو ہے جو کاٹنے کے لائق ہے ایسا نہ ہو کہ وہ باقی عضو کو بھی گندہ کر دے اور تو مر جاوے۔ اور قرآن تمہیں انجیل کی طرح یہ نہیں کہتا کہ ہر گرفتم نہ کھا بلکہ بیہودہ قسموں سے تمہیں روکتا ہے کیونکہ بعض صورتوں میں قسم فیصلہ کے لئے ایک ذریعہ ہے اور خدا کسی ذریعہ ثبوت کو ضائع کرنا نہیں چاہتا کیونکہ اس سے اُس کی حکمت تلف ہوتی ہے یہ طبعی امر ہے کہ البلد : ۱۸ النور : ۲۷