کشتیءنوح — Page 16
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۱۶ کشتی نوح ☆ نبی ہے اور وہ خاتم الانبیاء ہے اور سب سے بڑھ کر ہے اب بعد اس کے کوئی نبی نہیں مگر وہی جس پر بروزی طور سے محمدیت کی چادر پہنائی گئی کیونکہ خادم اپنے مخدوم سے جدا نہیں اور نہ شاخ اپنی پینج سے جدا ہے پس جو کامل طور پر مخدوم میں فنا ہو کر خدا سے نبی کا لقب پاتا ہے وہ ختم نبوت کا خلل انداز نہیں جیسا کہ تم جب آئینہ میں اپنی شکل دیکھو تو تم دو نہیں ہو سکتے بلکہ ایک ہی ہوا گر چہ بظاہر دو نظر آتے ہے تے ہیں صرف ظل اور اصل کا فرق ہے۔ سوایسا ہی خدا نے مسیح موعود میں چاہا یہی بھید ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مسیح موعود میری قبر میں دفن ہو گا یعنی وہ میں ہی ہوں اور اس میں دورنگی نہیں آئی اور تم یقیناً سمجھو کہ عیسی بن مریم فوت ہو گیا ہے اور کشمیر سرینگر محلہ خانیار میں اس کی قبر ہے خدا تعالیٰ نے اپنی کتاب عزیز میں اس کے مرجانے میں کی خبر دی ہے اور اگر اس آیت کے اور معنی ہیں تو عیسی بن مریم کی موت کی قرآن میں کہاں خبر ہے۔ مرنے کے متعلق جو آیتیں ہیں اگر وہ اور معنی رکھتی ہیں جیسا کہ ہمارے مخالف سمجھتے ہیں تو گویا قرآن نے اس کے مرنے کا کہیں ذکر نہیں کیا کہ وہ کسی وقت مرے گا بھی ۔ خدا نے ہمارے نبی کے مرنے کی خبر دی مگر سارے قرآن میں عیسیٰ کے مرنے کی خبر نہ دی۔ اس میں کیا راز ہے اور اگر کہو کہ عیسی کے مرنے کی اس آیت میں خبر ہے کہ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ انْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ لا سو یہ آیت تو صاف دلالت کرتی ہے کہ وہ عیسایوں کے بگڑنے سے پہلے مر چکے ہیں غرض اگر آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی کے یہ معنی ہیں کہ مع جسم زندہ عیسی کو آسمان پر اُٹھا لیا تو کیوں خدا نے ایسے شخص کی موت کا سارے قرآن میں ذکر نہیں کیا جس کی زندگی نوٹ: عیسائی محققوں نے اسی رائے کو ظاہر کیا ہے دیکھو کتاب سو پر نیچرل ریلیجن صفحہ ۵۲۲ ۔ اگر تفصیل چاہتے ہو تو ہماری کتاب تحفہ گولڑویہ کا صفحہ ۱۳۹ دیکھ لو ۔ منہ ☆ * اسی آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام پھر دنیا میں نہیں آئیں گے کیونکہ اگر وہ دنیا میں آنے والے ہوتے تو اس صورت میں یہ جواب حضرت عیسی کا محض جھوٹ ٹھہرتا ہے کہ مجھے عیسائیوں کے بگڑنے کی کچھ خبر نہیں جو شخص دوبارہ دنیا میں آیا اور چالیس برس رہا اور کروڑ ہا عیسائیوں کو دیکھا جو اس کو خدا جانتے تھے اور صلیب توڑا اور تمام عیسائیوں کو مسلمان کیا وہ کیونکر قیامت کو جناب الہی میں یہ عذر کر سکتا ہے کہ مجھے عیسائیوں کے بگڑنے کی کچھ خبر نہیں۔ منہ المائدة : ١١٨