کشتیءنوح — Page 14
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۱۴ کشتی نوح L تم نجات یافتہ لکھے جاؤ اور یا درکھو کہ نجات وہ چیز نہیں جو مرنے کے بعد ظاہر ہوگی بلکہ حقیقی نجات وہ ہے کہ اسی دنیا میں اپنی روشنی دکھلاتی ہے نجات یافتہ کون ہے؟ وہ جو یقین رکھتا ہے جو خدا سچ ہے اورمحمد صلی اللہ علیہ وسلم اس میں اور تمام مخلوق میں درمیانی شفیع ہے اور آسمان کے نیچے نہ اس کے ہم مرتبہ کوئی اور رسول ہے اور نہ قرآن کے ہم رتبہ کوئی اور کتاب ہے۔ اور کسی کے لئے خدا نے نہ چاہا کہ وہ ہمیشہ زندہ رہے مگر یہ برگزیدہ نبی ہمیشہ کے لئے زندہ ہے اور اس کے ہمیشہ زندہ رہنے کے لئے خدا نے یہ بنیاد ڈالی ہے کہ اس کے افاضہ تشریعی اور روحانی کو قیامت تک جاری رکھا اور آخر کار اس کی روحانی فیض رسانی سے اس مسیح موعود کو دنیا میں بھیجا جس کا آنا اسلامی عمارت کی تکمیل کے لئے ضروری تھا کیونکہ ضرور تھا کہ یہ دنیا ختم نہ ہو جب تک کہ محمدی سلسلہ کے لئے ایک سیر روحانی رنگ کانہ دیا جاتا جیسا کہ موسوی سلسلہ کے لئے دیا گیا تھا اس کی طرف یہ آیت اشارہ کرتی ہے کہ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ موسى نے وہ متاع پائی جس کو قرون اولیٰ کھو چکے تھے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ متاع پائی جس کو موسیٰ کا سلسلہ کھو چکا تھا اب محمدی سلسلہ موسوی سلسلہ کے قائم مقام ہے مگر شان میں ہزار ہا درجہ بڑھ کر مثیل موسیٰ موسیٰ سے بڑھ کر اور مثیل ابن مریم ابن مریم سے بڑھ کر۔ اور وہ مسیح موعود نہ صرف مدت کے لحاظ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد چودہویں صدی میں ظاہر ہوا جیسا کہ مسیح ابن مریم موسیٰ کے بعد چودھویں صدی میں ظاہر ہوا تھا۔ بلکہ وہ ایسے وقت میں آیا جب کہ مسلمانوں کا وہی حال تھا جیسا کہ مسیح ابن مریم کے ظہور کے وقت یہودیوں کا حال تھا سو وہ میں ہی ہوں خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے نادان ہے وہ جو اُس سے لڑے اور جاہل ہے وہ جو اس کے مقابل پر یہ اعتراض کرے کہ ۱۴ یوں نہیں بلکہ یوں چاہئے تھا۔ اور اُس نے مجھے چمکتے ہوئے نشانوں کے ساتھ بھیجا ہے جو دس ہزار سے بھی زیادہ ہیں از انجملہ ایک طاعون بھی نشان ہے پس جو شخص مجھ سے سچی بیعت کرتا ہے اور سچے دل ☆ سے میرا پیرو بنتا ہے اور میری اطاعت میں محو ہو کر اپنے تمام ارادوں کو چھوڑتا ہے وہی ہے جو ان یہودی اپنی تاریخ کی رو سے بالا تفاق یہی مانتے ہیں کہ موسیٰ سے چود ہوائیں صدی کے سر پر عیسی ظاہر ہوا تھا۔ دیکھو یہودیوں کی تاریخ ۔ منہ ا الفاتحة : ٧،٦