کشتیءنوح — Page 370
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۳۶۸ نسیم دعوت کر کے مشرف باسلام ہوئے ہیں باقی رہا یہ اعتراض کہ انہوں نے چاروں وید کب پڑھے ہیں یہ اعتراض اس صورت میں ہو سکتا تھا کہ جب اعتراض کرنے والے اپنے وید خوان ہونے کا ثبوت دیتے افسوس کہ انہوں نے اعتراض کرتے وقت انصاف اور خدا ترسی سے کام نہیں لیا بھلا اگر انہوں نے سچائی کی پابندی سے یہ اعتراض پیش کیا ہے تو ہمیں بتلاویں کہ ان میں سے وہ تمام لوگ رام رام کرنے والے جو سناتن دھرم پر قائم تھے اور پھر چند سال سے وہ آریہ بنے انہوں نے کس پنڈت سے وید پڑھا ہے کیونکہ اگر مذہب کی تبدیلی کیلئے پہلے ویدوں کا پڑھ لینا ضروری شرط ہے تو اس شرط سے آریہ کیونکر باہر رہ سکتے ہیں یہ بات کس کو معلوم نہیں کہ پنڈت دیانند کے وجود سے پہلے اس ملک میں تمام ہندو سناتن دھرم رکھتے تھے اور ابھی تک ان کے ٹھاکر دوارے اس گاؤں میں بھی موجود ہیں اور ان کے پنڈت اور وید دان آریہ ورت میں بکثرت پائے جاتے ہیں اور بہتوں کو ہم نے خود دیکھا ہے اور وید جو اُردو اور انگریزی میں ترجمہ ہو چکے ہیں ان پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وید کے اکثر ارتھ جو سناتن دھرم والے کرتے ہیں وہی ٹھیک ہیں۔ خیر اس بحث کو اس وقت جانے دو بہر حال جو اعتراض ان آریہ صاحبوں نے نو مسلم ہندوؤں پر کیا ہے وہی اعتراض ان پر بھی ہوتا ہے کیونکہ ایک زمانہ تو وہ تھا کہ وہ رام چندر، کرشن اور دیگر اوتاروں کو پرمیشر جانتے تھے مورتی پوجا کو وید کی ہدایت سمجھتے تھے اور سب سے زیادہ یہ کہ ویدانت کے اصول کے موافق اپنے تئیں پر میشر میں سے نکلے ہوئے خیال کرتے تھے اور پھر آریہ بننے کے بعد وہ سب خیالات پلٹ گئے اور بجائے اس کے کہ پرمیشر میں سے نکلے ہوں انادی اور غیر مخلوق کہلا کر خود قدیم اور پرمیشر کے شریک بن گئے ۔ پس کیا اس قدر انقلاب کے لئے حسب عقیدہ ان کے یہ ضرور نہ تھا کہ ہر ایک فرد ان میں سے اول چاروں وید پڑھ لیتا پھر اپنے قدیم مذہب سناتن دھرم کو چھوڑتا اور آریہ سماج میں داخل ہوتا۔ پس اگر