کشتیءنوح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 109 of 566

کشتیءنوح — Page 109

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۱۰۹ اعجاز احمدی ضمیمه نزول المسیح ہے کہ تم نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دجال کہا تھا سو تم اگر اس لفظ سے رجوع نہیں کرو گے تو پندرہ مہینہ میں ہلاک کئے جاؤ گے ۔ سو آتھم نے اسی مجلس میں رجوع کیا اور کہا کہ معاذ اللہ میں ﴿۳﴾ نے آنجناب کی شان میں ایسا لفظ کوئی نہیں کہا اور دونوں ہاتھ اُٹھائے اور زبان منہ سے نکالی اور لرزتے ہوئے زبان سے انکار کیا جس کے نہ صرف مسلمان گواہ بلکہ چالیس سے زیادہ عیسائی بھی گواہ ہوں گے۔ پس کیا یہ رجوع نہ تھا! اور کیا اُس کا ڈرنا اور میعاد پیشگوئی میں اُس بحث کو بکلی ترک کر دینا جو ہے ا جو ہمیشہ میرے ساتھ کرتا تھا اور نیز شیخ نا تھا اور نیز شیخ غلام حس غلام حسن صاحب مرحوم رئیس اعظم امرتسر کے ساتھ بھی اور میاں غلام نبی صاحب برادر میاں اسد اللہ صاحب مرحوم وکیل امرتسر کے ساتھ بھی کیا کرتا تھا۔ کیا یہ دلیل اس بات کی نہیں ہے کہ وہ ضرور ڈرا۔ اور کیا اس کا امرتسر کو چھوڑنا اور غربت میں خاموش زندگی بسر کرنا اور اکثر روتے رہنا اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ اُس کا دل تر ساں اور لرزاں ہوا۔ اور کیا اُس کا با وجود چار ہزار روپیہ دینے کے قسم نہ کھانا حالانکہ ثابت کر دیا گیا تھا کہ عیسائی مذہب میں جو از قسم ہے اور خود مسیح نے بھی قسم کھائی اور پولوس نے بھی۔ اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ وہ ڈر گیا ؟ پس کیا اب تک دجال کہنے کے قول سے اُس کا رجوع ثابت نہیں ہوا ؟ اور کون ثابت کر سکتا ہے کہ بعد اس کے اُس نے پیشگوئی کی میعاد میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دجال کر کے پکارا۔ اور پھر باوجود اس کے جیسا کہ میری پیشگوئی میں تھا کہ کا ذب صادق کی زندگی میں مر جائے گا۔ کیا وہ میری زندگی میں نہیں مرا۔ اگر پیشگوئی سچی نہیں نکلی تو مجھے دکھلاؤ کہ آتھم کہاں ہے۔ اس کی عمر تو میری عمر کے برابر تھی یعنی قریب ۶۴ سال کے ۔ اگر شک ہو تو اس کی پینشن کے کاغذات دفتر سرکاری میں دیکھ لو کہ کب اور کس عمر میں اُس نے پینشن پائی ۔ پس اگر پیشگوئی صحیح نہیں تھی تو وہ کیوں میرے پہلے مر گیا ۔ خدا کی لعنت اُن لوگوں پر جو جھوٹ بولتے ہیں۔ جب انسان حیا کو چھوڑ دیتا ہے تو جو چاہے بکے۔ کون اُس کو روکتا ہے۔ دیکھو لیکھرام کی نسبت جو پیشگوئی کی گئی تھی اس میں صاف بتلایا گیا تھا کہ وہ چھ برس کے اندر قتل کے ذریعہ سے ہلاک کیا جائے گا اور عید کے دن سے وہ دن ملا ہوا ہوگا ۔ وہ کیسی صفائی