کشتیءنوح — Page 71
روحانی خزائن جلد ۱۹ الے کشتی نوح کے لئے عادت کر لیا جاتا ہے وہ دماغ کو خراب کرتا اور آخر ہلاک کرتا ہے سو تم اس سے بچو۔ ہم نہیں سمجھ سکتے کہ تم کیوں ان چیزوں کو استعمال کرتے ہو جن کی شامت سے ہر ایک سال ہزار ہا تمہارے جیسے نشہ کے عادی اس دنیا سے کوچ کرتے جاتے ہیں اور آخرت کا عذاب الگ ہے۔ پر ہیز گار انسان بن جاؤ تا تمہاری عمریں زیادہ ہوں اور تم خدا سے برکت پاؤ۔ حد سے زیادہ عیاشی میں بسر کرنا لعنتی زندگی ہے۔ حد سے زیادہ بد خلق اور بے مہر ہونا لعنتی زندگی ہے۔ حد سے زیادہ خدا یا اس کے بندوں کی ہمدردی سے لا پروا ہونا لعنتی زندگی ہے۔ ہر ایک امیر خدا کے حقوق اور انسانوں کے حقوق سے ایسا ہی پوچھا جائے گا جیسا کہ ایک فقیر بلکہ اس سے زیادہ۔ پس کیا بد قسمت وہ شخص ہے جو اس مختصر زندگی پر بھروسہ کر کے بکلی خدا سے منہ پھیر لیتا ہے اور خدا کے حرام کو ایسی بیبا کی ۶۶ سے استعمال کرتا ہے کہ گویا وہ حرام اس کے لئے حلال ہے غصہ کی حالت میں دیوانوں کی طرح کسی کو گالی کسی کو زخمی اور کسی کو قتل کرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے اور شہوات کے جوش میں بے حیائی کے طریقوں کو انتہا تک پہنچا دیتا ہے سو وہ سچی خوشحالی کو نہیں پائے گا یہاں تک کہ مرے گا۔ اے عزیز و تم تھوڑے دنوں کے لئے دنیا میں آئے ہو اور وہ بھی بہت کچھ گزر چکی سواپنے مولی کو ناراض مت کرو ایک انسانی گورنمنٹ جو تم سے زبردست ہوا گر تم سے ناراض ہو تو وہ تمہیں تباہ کر سکتی ہے پس تم سوچ لو کہ خدا تعالیٰ کی ناراضگی سے کیونکر تم بیچ سکتے ہوا اگر تم خدا کی آنکھوں کے آگے متقی ٹھہر جاؤ تو تمہیں کوئی بھی تباہ نہیں کر سکتا اور وہ خود تمہاری حفاظت کرے گا اور دشمن جو تمہاری جان کے درپے ہے تم پر قابو نہیں پائے گا ورنہ تمہاری جان کا کوئی حافظ نہیں اور تم دشمنوں سے ڈر کر یا اور آفات میں مبتلا ہو کر بیقراری سے زندگی بسر کرو گے اور تمہاری عمر کے آخری دن بڑے غم یورپ کے لوگوں کو جس قدر شراب نے نقصان پہنچایا ہے اس کا سبب تو یہ تھا کہ عیسی علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے مگر اے مسلمانو! تمہارے نبی علیہ السلام تو ہر ایک نشہ سے پاک اور معصوم تھے جیسا کہ وہ فی الحقیقت معصوم ہیں سو تم مسلمان کہلا کر کس کی پیروی کرتے ہو قرآن انجیل کی طرح شراب کو حلال نہیں ٹھہراتا پھر تم کسی دستاویز سے شراب کو حلال ٹھہراتے ہو۔ کیا مرنا نہیں ہے؟ منه