کشتیءنوح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 61 of 566

کشتیءنوح — Page 61

روحانی خزائن جلد ۱۹ ٦١ کشتی نوح وہ جنہوں نے ایک برگزیدہ رسول کو قبول نہ کیا۔ مبارک وہ جس نے مجھے پہچانا میں خدا کی سب راہوں میں سے آخری راہ ہوں ۔ اور میں اس کے سب نوروں میں سے آخری نور ہوں ۔ بد قسمت ہے وہ جو مجھے چھوڑتا ہے کیونکہ میرے بغیر سب تاریکی ہے۔ دوسرا ذریعہ ہدایت کا جو مسلمانوں کو دیا گیا ہے سنت ہے یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عملی کار روائیاں جو آپ نے قرآن شریف کے احکام کی تشریح کے لئے کر کے دکھلائیں مثلاً قرآن شریف میں بظاہر نظر پنجگانہ نمازوں کی رکعات معلوم نہیں ہوتیں کہ صبح کس قدر اور دوسرے وقتوں میں کسی کسی تعداد پر لیکن سنت نے سب کچھ کھول دیا ہے یہ دھو کہ نہ لگے کہ سنت اور حدیث ایک چیز ہے کیونکہ حدیث تو سوڈیڑھ سو برس کے بعد جمع کی گئی مگر سنت کا قرآن شریف کے ساتھ ہی وجود تھا مسلمانوں پر قرآن شریف کے بعد بڑا احسان سنت کا ہے خدا اور رسول کی ذمہ داری کا ۵۷ فرض صرف دو امر تھے اور وہ یہ کہ خدا نے قرآن کو نازل کر کے مخلوقات کو بذریعہ اپنے قول کے اپنے منشاء سے اطلاع دے یہ تو خدا کے قانون کا فرض تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرض تھا کہ خدا کی کلام کو عملی طور پر دکھلا کر بخوبی لوگوں کو سمجھا دیں پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ گفتنی باتیں کردنی کے پیرا یہ میں دکھلا دیں اور اپنی سنت یعنی عملی کارروائی سے معضلات اور مشکلات مسائل کو حل کر دیا یہ کہنا بے جا ہے کہ یہ حل کر نا حدیث پر موقوف تھا کیونکہ حدیث کے وجود سے پہلے اسلام زمین پر قائم ہو چکا تھا کیا جب تک حدیثیں جمع نہ ہوئی تھیں لوگ نماز نہ پڑا اں لوگ نماز نہ پڑھتے تھے یا زکوۃ نہ دیتے تھے یا حج نہ کرتے تھے یا حلال و حرام سے واقف نہ تھے۔ ہاں تیسرا ذریعہ ہدایت کا حدیث ہے کیونکہ بہت سے اسلام کے تاریخی اور اخلاقی اور فقہ کے امور کو حدیثیں کھول کر بیان کرتی ہیں اور نیز بڑا فائدہ حدیث کا یہ ہے کہ وہ قرآن کی خادم اور سنت کی خادم ہے جن لوگوں کو ادب قرآن اہل حدیث فعل رسول اور قول رسول دونوں کا نام حدیث ہی رکھتے ہیں ہمیں ان کی اصطلاح سے کچھ غرض نہیں دراصل سنت الگ ہے جس کی اشاعت کا اہتمام خود آنحضرت نے بذات خود فرمایا اور حدیث الگ ہے جو بعد میں جمع ہوئی ۔ منہ