کشف الغطاء

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 28 of 550

کشف الغطاء — Page 28

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۲۸ نجم الهدى المواسين۔ وطالما سلک فی سکک پاس آیا اور ایک مدت تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مكة كوحيد طريد، وتصدى بقوة اکیلے اور رڈ شدہ انسان کی طرح مکہ کی گلیوں النبوة لكل عذاب شديد، وكان يُقبل على الله الله كل ليلة، ويسأل الله انفتاح میں پھرتے رہے اور قوت نبوت سے ہر ایک عذاب کا مقابلہ کیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اللہ انفتاح کی یہ عادت تھی کہ رات کو اٹھ کر تھی کہ رات کو اٹھ کر خدا تعالیٰ کی عيونهم ونزول فضل ورحمة، حتى طرف توجہ کرتے اور خدا تعالیٰ سے ان کی بینائی استجيب الدعوات، وضاع مسكها اور فضل اور رحمت چاہتے ۔ یہاں تک کہ وتوالي النفحات ونزل أمر مقلب دعائیں قبول کی گئیں اور ان کی کستوری کی خوشبو القلوب، وأوتوا قوة من معطى الحب پھیلی اور خوشبوئیں پے در پے پھیلنی شروع ہوئیں اور دلوں کے بدلنے والے کا حکم نازل وزارع الحبوب، فبدلت الأرض ہوا اور اُس ذات سے اُن کو قوت عطا ہوئی جو غير الأرض بحكم حضرة الكبرياء محبت کو عطا کرتا اور دانوں کو اگاتا ہے۔ سو حکم الہی وجذبت النفوس إلى الداعى سے زمین بدلائی گئی اور آواز دینے والے المبارك وسمع نداءه قلوب بابرکت کی طرف دل کھینچے گئے اور ہر ایک رشید السعداء ، وأفضى إلى مقتله كل رشید اپنے قتل گاہ کی طرف صدق اور وفا سے و تا زمانی در از در کوچہ ہائی مکہ چون شخصے بے یارو یاوری را نده شده گردش می کرد و با تاب و توان نبوت هر رنجی سخت را بر خود آسان میگرفت - و شب را رو بخدا می آورد و از وی بزاری و گریه میخواست که دیده انها را بکشاید و در فضل و رحمت بر روئی اُنها با ز نماید - تا آنکه نیاز و گدازش پذیرفته شد و بوئی مشک آسایش و میدن و بمغز جانها پیاپی رسیدن گرفت ۔ و از طرف گرداننده دلها فرمان نازل شد و بخشنده مهر و محبت و نشاننده دانہ ہا توانائی باوشان بخشید ۔ پس باذن الہی انقلاب شگرفی پیدا و آن زمین بز مینی دیگر عوض شد - دلها بسوئی آواز دہندہ فرخندہ پی کشیده شد و همه نیک نہادان فرخ نزاد از صدق و وفا بسوئی