کشف الغطاء

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 441 of 550

کشف الغطاء — Page 441

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۴۴۱ حقيقت المهدى بھی اعتراض کرتے ہیں کہ وہ پوری نہیں ہوئیں ۔ مگر یہ سراسر ان کا افترا ہے اور سچ اور واقعی یہی بات ہے کہ میری کوئی ایسی پیشگوئی نہیں کہ جو پوری نہیں ہو گئی۔ اگر کسی کے دل میں شک ہو تو وہ سیدھی نیت سے ہمارے پاس آجائے اور بالمواجہ کوئی اعتراض کر کے اگر شافی کافی جواب نہ سنے تو ہم ہر ایک تاوان کے سزاوار ٹھہر سکتے ہیں ۔ حقیقت یہی ہے کہ ایسے لوگ بخل سے اعتراض کرتے ہیں نہ انصاف سے۔ اگر یہ لوگ انبیاء علیہم السلام کے وقتوں میں ہوتے تو ان پر بھی ایسے ہی اعتراض کرتے جو مجھ پر کرتے ہیں۔ جو شخص آنکھیں رکھتا ہے اس کو ہم راہ دکھلا سکتے ہیں ۔ مگر جو بخل اور خود غرضی اور تکبر سے اندھا ہو گیا ہو اس کو کیا دکھا سکتے ہیں۔ تین ہزار یا ﴿۸﴾ اس سے بھی زیادہ اس عاجز کے الہامات کی مبارک پیشگوئیاں جو امن عامہ کے مخالف نہیں پوری ہو چکی ہیں ۔ صدہا نیک دل انسان گواہ ہیں بہت سی تحریریں پیش از وقت شائع ہو چکی ہیں پھر بھی اگر کوئی بخل کی راہ سے خواہ نخواہ شکوک اور اعتراضات پیش کرتا ہے اور سیدھے طور پر صحبت میں رہ کر تجربہ نہیں کرتا اور نہ اہل تجربہ سے دریافت کرتا ہے اور دجل اور خیانت کی راہ سے دھوکہ دینے والے اعتراضات مشہور کرتا ہے اور خیانت اور دروغ گوئی سے باز نہیں آتا وہ ان منکرین کا وارث ہے جو اس سے پہلے خدا کے پاک نبیوں کے مقابل پر گذر چکے ہیں۔ خدا اپنے بندوں کو ایسے منصوبہ باز لوگوں کے بہتانوں سے اپنی پناہ میں رکھے۔ اس بات کا کیا سبب ہے کہ یہ لوگ چوروں کی طرح دور دور سے اعتراض کرتے ہیں اور صاف باطن لوگوں کی طرح بالمقابل آکر اعتراض نہیں کرتے اور نہ جواب سننا چاہتے ہیں ۔ اس کا یہی سبب ہے کہ یہ لوگ اپنے دجل اور بد دیانتی سے واقف ہیں اور ان کا دل ان کو ہر وقت جتلاتا ہے کہ اگر تم نے ایسے بیہودہ اور جہالت اور خیانت سے بھرے ہوئے اعتراض رو بروئے پیش کئے تو اس صورت میں تمہاری سخت پردہ دری ہوگی اور تمہاری دھوکا دینے والی باتیں یکدفعہ کالعدم ہو جائیں گی تب اس وقت ندامت اور خجالت اور رسوائی رہ جائے گی