کشف الغطاء

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 425 of 550

کشف الغطاء — Page 425

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۴۲۵ ايام الصلح کہ مسیح موعود یا جوج ماجوج کے وقت میں ظاہر ہوگا۔ اور نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ میں یہ بھی لکھا ہے کہ مسیح کے زمانہ میں اونٹوں کی سواری اور بار برداری ترک کی جائے گی ۔ اس قول میں یہ اشارہ تھا کہ کوئی ایسی سواری ظاہر ہوگی جس سے اونٹوں کی حاجت نہیں رہے گی۔ میں نے یہ بھی ثابت کر دیا ہے کہ خدا تعالیٰ کی مصلحت اور حکمت کے رُو سے ایک ایسے انسان کا آخری زمانہ میں آنا ضروری تھا جو برکات عیسویہ اور برکات محمد یہ کا جامع ہو اور اسی کے یہ دو نام احمد مہدی اور عیسی مسیح ہیں۔ غرض میں نے نصوص کے رُو سے خدا تعالیٰ کی حجت اس زمانہ کے لوگوں پر پوری کر دی ہے۔ ایسا ہی عقل کے رُو سے بھی میں نے حجت کو پورا کیا ہے۔ اس بات کے لکھنے کی چنداں حاجت نہیں کہ جس پہلو پر خدا تعالیٰ نے ہمیں قائم کیا ہے اُسی پہلو کی عقل بھی مصدق ہے اور عقل کے پاس اس با ر عقل کے پاس اس بات کا کوئی نمونہ نہیں کہ نمونہ نہیں کہ انسان فرشتوں کے ۱۷۷ کاندھوں پر ہاتھ رکھ کر آسمان سے اُترے۔ ایسا ہی میں نے آسمانی تائیدوں اور غیبی نشانوں سے اپنا سچا ہونا ثابت کیا ہے۔ اور یہ ایک ایسا امر ہے جو انسان کی طاقت سے باہر ہے۔ جس طرح کوئی آمنے سامنے کھڑے ہو کر دشمن کے ساتھ مقابلہ کرتا ہے ایسا ہی خدا تعالیٰ نے میری تائید میں کیا ہے جس قطعی اور یقینی طور پر اب لوگوں نے نشان دیکھے یہ نمونہ نبوت کے زمانہ کے بعد کبھی کسی کی آنکھ نے نہیں دیکھا۔ خُدا نے کھلے کھلے طور پر اپنا زور بازو دکھلایا اور بہت سے نشان غیب گوئی اور قدرت نمائی کے دکھلائے۔ شریر اور مفسد اور ناپاک طبع چاہتے ہیں کہ خدا کے ان نشانوں کو خاک میں ملا دیں۔ مگر خدا ان نشانوں کو قوموں میں پھیلائے گا اور اُن کے ساتھ اور نشان ملائے گا۔ وہ وقت آتا ہے بلکہ آچکا کہ جو لوگ آسمانی نشانوں سے جو خدا تعالیٰ اپنے بندے کی معرفت ظاہر کر رہا ہے منکر ہیں بہت شرمندہ ہوں گے اور تمام تاویلیں اُن کی ختم ہو جائیں گی اُن کو کوئی گریز کی جگہ نہیں رہے گی۔ تب وہ جو سعادت سے کوئی مخفی حصہ رکھتے ہیں وہ حصہ جوش میں آئے گا ۔ وہ سوچیں گے کہ یہ