کشف الغطاء — Page 423
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۴۲۳ ايام الصلح رکھنا ہے۔ پس یہ ہمت کسی بز دل کا کام نہیں ہے بلکہ بہادروں اور پہلوانوں کا کام ہے۔ ماسوا اس کے خود بزرگ موصوف کو الہام ہوا اور اُس نے خدا کا نشان دیکھا۔ اس لئے اُس نے راستبازوں کی طرح حق کو قبول کیا۔ افسوس یہ زمانہ کیسا نابکار زمانہ ہے کہ جو لوگ خدا سے ڈرتے اور حق کو قبول کرتے اور خدا کے نشانوں کو دیکھ کر سچائی کی طرف دوڑتے ہیں اُن کا نام بز دل رکھا جاتا ہے اور ان کو بدی سے یاد کیا جاتا ہے۔ اور جو لوگ در حقیقت بزدل ہیں اور مر دار دنیا کے لئے حق کی طرف نہیں آتے تا دنیا داروں کی زبان سے آزار نہ اٹھاویں وہ اپنے تئیں بہادر سمجھتے ہیں۔ یہ تمام جوابات ان اعتراضات کا جواب ہیں جو شہزادہ عبدالمجید خان صاحب نے شہزادہ والا گوہر صاحب کی کتاب سے انتخاب کر کے اس خط میں لکھے ہیں جو ہماری طرف بھیجا ہے جس کو ہم نے ان اعتراضات سے پہلے چھاپ دیا ہے۔ وہ اصل خط ہمارے پاس موجود ہے اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ ۱۷۵ شہزادہ عبدالمجید خان صاحب نے وہی لکھا ہے جو شہزادہ والا گو ہر صاحب کی کتاب میں دیکھا یا اُن کے منہ سے سنا ہے۔ گوشہزادہ والا گو ہر صاحب کی کتاب اب تک ہمارے پاس نہیں پہنچی مگر وہ انہی خرافات سے پر ہے کیونکہ شہزادہ عبدالمجید خانصاحب اُن کے قریبی رشتہ دار اور اول درجہ کے خیر خواہ اور دوست ہیں اور بذات خود نیک چلن اور راست گو اور متقی آدمی ہیں۔ ممکن نہیں کہ انہوں نے ایک حرف بھی بطور مبالغہ لکھا ہو۔ میری دانست میں ہرگز مناسب نہ تھا کہ شہزادہ والا گوہر صاحب ایسی بیہودہ کتاب تالیف کر کے ناحق اپنی پردہ دری کراتے ۔ شہزادگی امر دیگر ہے مگر شہزادہ والا گو ہر صاحب علم حدیث اور قرآن اور دوسرے علوم سے بے نصیب اور بے بہرہ ہیں ان کو خواہ نخواہ دخل در معقول مناسب نہ تھا۔ چاہیے کہ اول وہ قرآن شریف اور احادیث کو کسی اُستاد سے غور سے پڑھیں اور تاریخ اسلام سے حصہ وافر حاصل کریں اور عیسائیوں کی کتابوں کو بھی غور سے دیکھیں اور پھر اگر فرائض نوکری سے فرصت ہو تو ہمارا رد لکھیں۔ ایسی قابل شرم اور بے ہودہ کتاب جلا دینے اور تلف کر دینے کے لائق ہے۔ بہتر ہو کہ وہ اب بھی اس نصیحت پر کار بند ہو جائیں اور ہرگز اس کو شائع نہ کریں اور اندر ہی اندر ضائع کر دیں آئندہ وہ اپنے