کشف الغطاء — Page 419
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۴۱۹ ايام الصلح یہ کام خدا تعالیٰ نے کیا ہے اور ہندوؤں کے دلوں میں اُس کی عظمت ڈال دی تا ایک نامی آدمی کی نسبت پیشگوئی متصور ہو کر اُس کا اثر بڑھ جائے اور صفحۂ روزگار سے مٹ نہ سکے۔ اب اے جب تک عزت کے ساتھ لیکھرام کو یاد کیا جائے گا تب تک یہ پیشگوئی بھی ہندوؤں کو یادر ہے گی۔ غرض لیکھرام کو عزت کے ساتھ یاد کرنا پیشگوئی کی قدر و منزلت کو بڑھاتا ہے۔ اگر پیشگوئی کسی چوہڑے چمار اور نہایت ذلیل انسان کی نسبت ہوتی تو کیا قدر ہوتی ؟ میں پہلے اس خیال سے غمگین تھا کہ پیشگوئی تو پوری ہوئی مگر ایک ایسے معمولی شخص کی نسبت کہ جو ب پشاور میں سات آٹھ روپیہ کا پولیس کے محکمہ میں نو کر تھا۔ لیکن جب میں نے سنا کہ مرنے کے بعد اُس کی بہت عزت کی گئی تو وہ میرا غم خوشی کے ساتھ بدل گیا اور میں نے سمجھا کہ اب لوگ خیال کریں گے کہ ایسے معمولی آدمی پر میری دُعاؤں کا حملہ نہیں ہوا بلکہ اُس پر ہوا جس پر تمام قوم مل کر روئی جس کے مرنے پر بڑا ماتم ہوا۔ جس کے مریچے بنائے گئے جس کی یادگار کے لئے بہت سا رو پیدا کٹھا کیا گیا۔سو یہ خدا کا احسان ہے کہ اس طرح پر اُس نے پیشگوئی کو عظمت دے دی۔فالحمد للہ علی ذالک۔ قوله کسوف خسوف کی حدیث موضوع ہے۔ ۔ اقول کسی شیطان نے آپ کو دھوکا دیا ۔ کو دھوکا دیا ہے وہ حدیث نہ ریت نہایت صحیح ہے اور صرف دار قطنی میں نہیں بلکہ حدیث کی اور کتابوں میں بھی ہے۔ اور شیعہ میں بھی ہے اور اہل سنت میں بھی ۔ ماسوا اس کے یہ اصول محد ثین کا مانا ہوا ہے کہ اگر کسی حدیث کی ؛ ہے کہ اگر کسی حدیث کی پیشگوئی پوری ہو جائے اور بالفرض اگر اس حدیث کو موضوع ہی سمجھا گیا تھا تو پوری ہونے کے بعد وہ صحیح حدیث سمجھی جائے گی کیونکہ خدا نے اُس کی سچائی پر گواہی دی۔ کیونکہ خدا کے سوا غیب کی کسی کو طاقت نہیں ہے ۔ حدیث کا علم ایک ظنی علم ہے ! ظنی علم ہے بسا اوقات ایک حدیث صحیح ہوتی ہے اور ممکن ہے ☆ قرآن شریف میں ہے فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَّسُولٍ العني کامل طور پر غیب کا بیان کرنا صرف رسولوں کا کام ہے دوسرے کو یہ مرتبہ عطا نہیں ہوتا ۔ رسولوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے بھیجے جاتے ہوں خواہ وہ نبی ہوں یا رسول یا محدث اور مجد دہوں۔ منہ ا الجن: ۲۸،۲۷