کشف الغطاء — Page 411
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۴۱۱ ايام الصلح اقول ۔ ایسا ہی اس نبی شاہد کی نبوت کے لئے کسی اور نبی کی ضرورت ہے۔ وقس على هذا ۔ اور ہزار حیف ہے ان لوگوں کے ایمان پر جن کے نزدیک ابھی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت ثابت نہیں ہوئی بلکہ جب مسیح آئے گا اور گواہی دے گا تب ثابت ہوگی ۔ قوله مسیح نبی ہو کر نہیں آئے گا امتی ہو کر آئے گا مگر نبوت اس کی شان میں مضمر ہوگی ۔ اقول ۔ جب کہ شانِ نبوت اُس کے ساتھ ہوگی اور خدا کے علم میں وہ نبی ہوگا تو بلا شبہ اس کا دنیا میں آنا ختم نبوت کے منافی ہوگا کیونکہ در حقیقت وہ نبی ہے اور قرآن کے رُو سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی نبی کا آنا ممنوع ہے۔ قوله ۔ نبی کا مثیل نبی ہوتا ہے۔ اقول ۔ تمام اُمت کا اس پر اتفاق ہے کہ غیر نبی بروز کے طور پر قائم مقام نبی ہو جاتا ہے۔ یہی معنے اس حدیث کے ہیں ۔ عُلَمَاءُ أُمَّتِي كَانْبِيَاءِ بَنِي إِسْرَائِيلَ یعنی میری اُمت کے علماء مثیل انبیاء ہیں۔ دیکھو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے علماء کو مثیل انبیاء قرار دیا اور ایک حدیث میں ہے کہ علماء انبیاء کے وارث ہیں اور ایک حدیث میں ہے کہ ہمیشہ میری امت میں سے چالیس آدمی ابراہیم کے قلب پر ہوں گے۔ اس حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو مثیل ابراہیم قرار دیا اور اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کے اس جگہ تمام مفسر قائل ہیں کہ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کی ہدایت سے غرض تشبه بالانبیاء ہے جو اصل حقیقت اتباع ہے۔ اور صوفیوں کا مذہب ہے کہ جب تک انسان ایمان اور اعمال اور اخلاق میں انبیاء علیہم السلام سے ایسی مشابہت پیدا نہ کرے کہ خود وہی ہو جائے تب تک اس کا ایمان ۱۲۴ کامل نہیں ہوتا اور نہ مرد صالح ہو سکتا ہے پس نہایت ظلم اور خیانت ہے کہ قبل اس کے کہ دین کی کتابوں کو دیکھا جائے دنیا داروں کی مقدمہ بازی کی طرح ایک خود تراشیدہ بات پیش کی جائے ۔ خدا نے انبیاء علیہم السلام کو اسی لئے اس دنیا میں بھیجا ہے کہ تا دنیا میں اُن کے مثیل قائم کرے اگر یہ بات نہیں تو پھر نبوت لغو ٹھہرتی ہے ۔ نبی اس لئے الفاتحة: ٧،٦