کشف الغطاء

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 394 of 550

کشف الغطاء — Page 394

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۳۹۴ ايام الصلح وَوَجَدَكَ ضَالَّا فَهَدَی اس کی تفصیل یہ ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اور نبیوں کی طرح ظاہری علم کسی اُستاد سے نہیں پڑھا تھا مگر حضرت عیسیٰ اور حضرت موسیٰ مکتبوں میں بیٹھے تھے اور حضرت عیسی نے ایک یہودی اُستاد سے تمام توریت پڑھی تھی ۔ غرض اسی لحاظ سے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی اُستاد سے نہیں پڑھا خدا آپ ہی اُستاد ہوا اور پہلے پہل خدا نے ہی آپ کو اقرء کہا۔ یعنی پڑھ۔ اور کسی نے نہیں کہا اس لئے آپ نے خاص خدا کے زیر تربیت تمام دینی ہدایت پائی اور دوسرے نبیوں کے دینی معلومات انسانوں کے ذریعہ سے بھی ہوئے ۔ سو آنے والے کا نام جو مہدی رکھا گیا سو اس میں یہ اشارہ ہے کہ وہ آنے والا علم دین خدا سے ہی حاصل کرے گا اور قرآن اور حدیث میں کسی اُستاد کا شاگرد نہیں ہوگا ۔ سو میں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ میرا حال یہی حال ہے کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ میں نے کسی انسان سے قرآن یا حدیث یا تفسیر کا ایک سبق بھی پڑھا ہے یا کسی مفسر یا محدث کی شاگردی اختیار کی ہے ۔ پس یہی مہدویت ہے جو نبوت محمد یہ کے منہاج پر مجھے حاصل ہوئی ہے اور اسرار دین بلا واسطہ میرے پر کھولے گئے ۔ اور جس طرح ۱۳۸ مذکورہ بالا وجہ سے آنے والا مہدی کہلائے گا اسی طرح وہ مسیح بھی کہلائے گا کیونکہ اس میں حضرت عیسی علیہ السلام کی روحانیت بھی اثر کرے گی ۔ لہذا وہ عیسٰی ابن مریم بھی کہلائے گا اور جس طرح ☆ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت نے اپنے خاصۂ مہدویت کو اس کے اندر پھونکا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نام عبد بھی ہے اور اس لئے خدا نے عبد نام رکھا کہ اصل عبودیت کا خضوع اور ڈل ہے اور عبودیت کی حالت کاملہ وہ ہے جس میں کسی قسم کا غلو اور بلندی اور عجب نہ رہے اور صاحب اس حالت کا اپنی عملی تکمیل محض خدا کی طرف سے دیکھے اور کوئی ہاتھ درمیان نہ دیکھے ۔ عرب کا محاورہ ہے کہ وہ کہتے ہیں مور نوٹ: یہ مرتبہ عبودیت کاملہ جو انسان اپنی عملی تکمیل محض خدا تعالیٰ کی طرف سے دیکھے بجز اس مہدی کامل کی جس کی عملی تکمیل تمام و کمال محض خدا تعالیٰ کے ہاتھ سے ہوئی ہو دوسرے کو میسر نہیں آ سکتا کیونکہ اپنی جہد اور کوشش کا اثر ضرور ایک ایسا خیال پیدا کرتا ہے کہ جو عبودیت تامہ کے منافی ہے۔ اس لئے مرتبہ عبودیت کا ملہ بھی بوجہ اس کے جو مرتبہ مہدویت کاملہ کے تابع ہے بجز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی دوسرے کو بوجہ کمال حاصل نہیں ۔ ذالك فضل الله يؤتيه من يشاء فاشهدوا انا نشهد ان محمدا عبد الله و رسوله _ منه ا الضحى: ۸