کشف الغطاء

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 367 of 550

کشف الغطاء — Page 367

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۳۶۷ ايام الصلح تو پھر بڑی بد ذاتی ہو گی کہ ہم دل میں یہ چھپا ہوا عقیدہ رکھیں کہ گورنمنٹ کے ہم دشمن ہیں۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ یعنی نیکی کرنے کی پاداش نیکی ہے۔ اگر ہم صرف مسلمان نیکی کرنے والے سے نیکی کریں اور غیر مذہب والوں سے نیکی نہ کریں تو ہم خدا تعالیٰ کی تعلیم کو چھوڑتے ہیں کیونکہ اُس نے نیکی کی پاداش میں داش میں کسی مذہب کی قید ۱۲۶ نہیں لگائی بلکہ صاف فرمایا ہے کہ اُس شریر پر خدا راضی نہیں کہ جو نیکی کرنے والوں سے بدی کرتا ہے اور یہ بھی یادر ہے کہ میں نے سلطان روم کی ذاتیات پر کوئی حملہ نہیں کیا اور نہ میں سلطان کے اندرونی حالات سے کچھ واقف ہوں۔ ہاں میں صرف اتنا کہتا ہوں اور کہوں گا کہ دعوتِ دین کے متعلق جس قدر ہم آزادی سے انگریزی سلطنت میں کام کر سکتے ہیں وہ مکہ اور مدینہ میں بیٹھ کر بھی نہیں کر سکتے نہ وہاں کر سکتے ہیں جہاں سلطان کا پایہ تخت ہے۔ اور ماسوا اس کے سلطان کی نسبت میں نے کچھ ذکر نہیں کیا میں نے تو صرف اُس سفیر روم کے بارے میں لکھا تھا جو قادیاں میں میرے پاس آیا تھا۔ اُس کے حالات کی تصریح سے مجھے خود شرم آتی ہے کہ وہ قسطنطنیہ دارالاسلام کا نمونہ تھا۔ افسوس میں نے اس کو نماز کا پابند بھی نہ پایا اور وہ مجھے ایسا بد نمونہ دکھا گیا جس سے مجھے اس کے دوسرے امثال کی نسبت بھی شبہ پیدا ہوا۔ غرض سلطان کا اسلامی ممالک کا بادشاہ ہونا یہ امر دیگر ہے اور انگریزوں کے احسان کا شکر ہم پر واجب ہونا یہ اور بات ہے۔ خدا نے انگریزوں کے ہاتھ سے بہت سے غموں سے ہمیں نجات دی اور ہمیں انگریزوں کی سلطنت میں دعوت اسلام کا موقعہ دیا ۔ سو یہ احسان جو انگریزوں کی ذات سے ہم پر ہوا اس کا سلطان ہرگز مستحق نہیں ہے ۔ احسان فراموش خدا کے نزدیک گناہ گار ہوتا ہے۔ سلطان روم اُس وقت کہاں تھا جبکہ ہم سکھوں کے عہد میں ذرہ ذرہ سی بات میں کچلے جاتے تھے اور بلند آواز سے بانگ نماز دینا سخت جرم سمجھا جاتا تھا اور ایسے شخص کو کم سے کم ڈکیتی یا ارتکاب سرقہ کی سزا ملتی تھی جو اپنی بدقسمتی سے بلند آواز سے اذان دیتا تھا۔ اور الرحمن : ١