کشف الغطاء

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 334 of 550

کشف الغطاء — Page 334

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۳۳۴ ايام الصلح فالج کی طرح گرتا اور عدم تک پہنچاتا ہے۔ پھر دوسرے جہنم سے محفوظ رہنے کے لئے وہ صراط مستقیم بتلایا جو انسانی فطرت کے تقاضا کے عین موافق اور قانونِ قدرت کے عین مطابق ۹۷ ہے۔ اور ہمیں نجات کی وہ راہ بتلائی جس میں کسی بناوٹی منصوبہ کی بد بو نہیں آتی ۔ کیا ہم خدا کے قدیم قانون کو جو تمام قوموں پر ظاہر ہوتا آیا ہے ترک کر کے صرف ایک تراشیدہ قصے پر جو ہزاروں اور بے شمار برسوں کے بعد تر اشا گیا ہے بھروسہ کر کے اور ایک عاجز انسان کو خدا قرار دے کر اور پھر لعنتی موت سے اس کو ہلاک کر کے یہ امید رکھ سکتے ہیں کہ اس مصنوعی طریق سے ہماری نجات ہو جائے گی اور کیا ایسا آدمی ہمارا منجی ہو سکتا ہے جس کو خود بھی دشمنوں کے ہاتھ سے نجات حاصل نہیں ہوئی اور انہوں نے اس کا پیچھا نہ چھوڑا جب تک اُس کا کام تمام نہ کر دیا۔ ہم بڑے ہی بد قسمت ہیں اگر ہمارا یہی کمزور اور ضعیف اور عاجز خدا ہے جو خود اپنے تئیں ذلتوں اور ناکامیوں اور دُکھوں سے بچانہ سکا۔ اور جب کہ اس کے حالات کا اس دنیا میں یہ نمونہ ظاہر ہوا تو ہم کیونکر اُمید رکھیں کہ مرنے کے بعد اس کو کوئی نئی قوت اور طاقت حاصل ہو گئی ہوگی ۔ جو شخص اپنے تئیں بچا نہ سکا وہ دوسروں کو کیونکر بچا سکتا ہے۔ یہ کیسی نامعقول بات ہے کہ خدا ہمیں نجات نہیں دے سکتا تھا جب تک کہ ایک معصوم کو اپنی جناب سے رڈ نہ کرے اور اس سے بدل بیزار نہ ہو اور اُس کا دشمن نہ ہو جائے اور اس کے دل کو سخت اور اپنی محبت اور معرفت سے دور اور محروم نہ کر دیوے یعنی جب تک کہ اُس کو لعنتی نہ بناوے اور مجرموں میں اس کو داخل نہ کرے۔ ایسے فرضی خدا سے ہر ایک کو پر ہیز کرنا چاہئیے جس کا اپنے ہی بیٹے کے ساتھ یہ معاملہ ہو۔ سچ کہو کیا دنیا میں کوئی عقل قبول کر سکتی ہے کہ جو شخص آپ ہی لعنتی ہو پھر وہ کسی کے لئے خدا تعالیٰ کی جناب میں سفارش کر سکے۔ دیکھو عیسائی مذہب میں کس قدر بے ہودہ اور دور از عقل و دیانت باتیں ہیں کہ اول ایک شخص عاجز مصیبت رسیدہ کو ناحق بے وجہ خدا بنایا جاتا ہے۔ پھر نا حق بے وجہ یہ اعتقاد رکھا جاتا نا ہے کہ وہ لعنتی ہو گیا۔ خدا اس سے بیزار ہو گیا وہ خدا سے بیزار ہو گیا۔ خدا اس کا دشمن ہو گیا وہ خدا کا دشمن ہو گیا۔ خدا اُس سے دُور ہو گیا وہ خدا سے دور ہو گیا پھر ان سب کے بعد یہ اعتقاد بھی ہے