کشف الغطاء — Page 330
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۳۳۰ ايام اصلح نام سے اُس کو پکارا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہودیوں میں جو طاعون پھوٹتی رہی تھی وہ پھوڑے تھے ممکن ہے کہ قوم یا ملک یا زمانہ یا مزاج کے لحاظ سے طاعون کی صورتیں جدا جدا ۹۳ ہوں۔ بہر حال اُس کے ساتھ ایک حمی شدید کا ہونا ایک لازمی امر ہے جواکثر اوقات پھوڑوں یا غدودوں کے پھیلنے سے پہلے ظاہر ہوتا ہے اور اکثر شدت تپ سے غشی تک نوبت پہنچتی ہے اور قرآن شریف میں اس مرض کا نام د جز رکھا گیا ہے اور رجز لغت عرب میں ان کاموں کو کہتے ہیں جن کا نتیجہ عذاب ہو۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ بلا اکثر اور اغلب قاعدے پر انسان کی شامت اعمال سے ہی آتی ہے اور پھر کبھی نیک انسان بھی اس بلا کے نیچے آ جاتے ہیں اور وہ اس مصیبت سے اجر شہادت پاتے ہیں ۔ بہر حال مبدء اور موجب اس کا عذاب الہی ہے جس سے ملک میں اس کا آغاز ہوتا ہے۔ اس تقریر سے ہمارا مطلب یہ نہیں ہے کہ علمی رنگ پر اس مرض کے اسباب پیدا نہیں کئے جاتے بلکہ علمی سلسلہ یعنی خلق اسباب کا سلسلہ بجائے خود ہے اور خدا تعالیٰ کے روحانی ارادوں کا سلسلہ بجائے خود ایک سے دوسرا مانع نہیں۔ یہ بڑی بے وقوفی ہے کہ انسان اس حکیم مطلق کے اصل اغراض کو نظر انداز کر دے اور صرف طبعیات کے سلسلہ تک تمام کاروبار اُس ذات جامع الکمالات کا بغیر کسی مطلب اور مقصد اور غرض مطلوب کے محدود سمجھے۔ یہ خود ظاہر ہے کہ وہ ذات مدبر بالا رادہ اور متصرف بالقصد ہے جس کے تمام کام عمیق در عمیق اسرار اپنے اندر رکھتے ہیں۔ کیا یہ دونوں باتیں ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتیں کہ اس عالم میں جو کچھ امر خیر یا شر منصہ ظہور میں آتا ہے وہ علوم طبعیہ اور نظامات حکمیہ کے سلسلہ کے نیچے نیچے ہی چلتا ہو اور اسباب معتادہ سے وابستہ ہو اور بایں ہمہ اس مدبر بالا رادہ نے اس امر کے ظاہر کرنے سے خاص خاص مقاصد اور اغراض بھی اپنے علم میں مقرر کر رکھے ہوں اور اگر ایسا نہ مانا جائے تو پھر خدا تعالیٰ کا وجود نعوذ باللہ محبت اور اس کے افعال محض بے ہودہ ہوں گے۔ لہٰذا یہی سچا فلسفہ اور واقعی دقیقہ حکمت ہے کہ یہ تمام تغیرات ارضی و سماوی خدا تعالیٰ کے ہاتھ سے علمی سلسلوں کے رنگ میں ظاہر ہوتے ہیں۔