کشف الغطاء — Page 8
روحانی خزائن جلد ۱۴ V نجم الهدى سر لا يفهمه إلا قلوب الأبدال احمد ہے۔ اور یہ وہ بھید ہے؟ ہے جس کو محض ابدال ثم إذا كان حـمـده بـإيثار وجه الله کے دل سمجھتے ہیںاور کوئی دوسرا سمجھ نہیں سکتا۔ اور (۳) والإقبال عليه بنفى أهواء النفس ما أرسل إلى ربه من تحميد وکذالک جرت سنته بكل پھر جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریفیں اس وجہ سے تھیں کہ انہوں نے خدا تعالیٰ کو اختیار کر والحفد إليه بإخلاص و صدق لیا تھا اور ہوا نفس سے الگ ہو کر خدا کی طرف وتوحيد، فرجع الله اليه صلة منه متوجہ ہو گئے تھے اور اخلاص اور صدق اور توحید سے اس کی طرف دوڑے تھے۔ سوخدا نے وہ تعریفیں بطور انعام کے ان کی طرف واپس کر دیں اور تمام یگانہ صدیقوں سے اس کی یہی صديق وحيد، فحمد محمدنا عادت ہے کہ وہ حامد کو محمود بنا دیتا ہے۔ پس ہمارا في الأرض والسماء بأمر رب في محمد صلی اللہ علیہ وسلم زمین و آسمان میں مجيد۔ وفي هذا تذكرة للعابدين تعريف کیا گیا اور اس قصے میں پرستاروں کے وبشرى لقوم حامدين ۔ فإن الله لئے یا د رکھنے کی بات ہے اور خدا کے شنا خوانوں کو اس میں بشارت ہے کیونکہ خدا يرد الـحـمـد إلى الحامد ويجعله تعریف کرنے والے کی تعریف کو اسی کی طرف من الــمــحــمــودین، فيحمد رد کر دیتا ہے اور اس کو قابل تعریف ٹھہرا دیتا ہے۔ في العالمين، ويوضع پس وہ دنیا میں تعریف کیا جاتا ہے اور اس کی و دیگری را نرسد در گرد این کوئی بگردد و چون ستایش آنجناب از این جهت بود که خدا را برگزیده و از آز و ہوائے خود بکلی دامن کشیده و همه تن محصاً رو بخدا گردیده و از اخلاص و توحید و صدق بسوئی او دویده بود لہذا خدا تشكر أو انعاماً آن همه ستایش ها را بوی بازگردانید و عاده خدا با کل صدیقان یگانه برهمین نهج جاری بوده است که حامد را محمود سازد۔ پس نبی ما محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) در زمین و زمان ستوده شد - این قصه نمونه و تذکره ایست از برائی پرستاران خدا و مثر ده ایست از پئے ستایش کنندگان وے چه خدا را عادة است که ستایش ستایش کنندگان را بدیشان بازمیگرداند و اوشان را سزا وار ستایش خلق میسازد