کشف الغطاء

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 307 of 550

کشف الغطاء — Page 307

روحانی خزائن جلد ۱۴ ٣٠٧ ايام الصلح خرچ کرتے تھے۔ اُن میں ایسے لوگ کئی پاؤ گے کہ جو موت کو یاد رکھتے اور دلوں کے نرم اور سچی تقویٰ پر قدم مار رہے ہیں جیسا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کی سیرت تھی ۔ وہ خدا کا گروہ ہے جن کو خدا آپ سنبھال رہا ہے اور دن بدن اُن کے دلوں کو پاک کر رہا ہے اور ان کے سینوں کو ایمانی حکمتوں سے بھر رہا ہے۔ اور آسمانی نشانوں سے اُن کو اپنی طرف کھینچ رہا ہے۔ جیسا کہ صحابہ کو کھینچتا تھا۔ غرض اس جماعت میں وہ ساری علامتیں پائی جاتی ہیں جو آخَرِينَ مِنْهُمْ کے لفظ سے مفہوم ہورہی ہیں ۔ اور ضرور تھا کہ خدا تعالیٰ کا فرمودہ ایک دن پورا ہوتا ۔ !!! اور آیت آخَرِينَ مِنْهُمْ میں یہ بھی اشارہ ہے کہ جیسا کہ یہ جماعت مسیح موعود کی ۷۳) صحابہ رضی اللہ عنہم کی جماعت سے مشابہ ہے ایسا ہی جو شخص اس جماعت کا امام ہے وہ بھی ظالی طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مشابہت رکھتا ہے جیسا کہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مہدی موعود کی صفت فرمائی کہ وہ آپ سے مشابہ ہو گا اور دو مشابہت اُس کے وجود میں ہوں گی ۔ ایک مشابہت حضرت مسیح علیہ السلام سے جس کی وجہ سے وہ مسیح کہلائے گا اور دوسری مشابہت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جس کی وجہ سے وہ مہدی کہلائے گا۔ اسی راز کی طرف اشارہ کرنے کے لئے لکھا ہے کہ ایک حصہ اس کے بدن کا اسرائیلی وضع اور رنگ پر ہوگا اور دوسرا حصہ عربی وضع اور رنگ پر ۔ حضرت مسیح علیہ السلام ایسے وقت میں آئے تھے جبکہ ملت موسوی یونانی حکماء کے حملوں سے خطرناک حالت میں تھی ۔ اور تعلیم توریت اور اُس کی پیشگوئیوں اور معجزات پر سخت حملہ کیا جاتا تھا اور یونانی خیالات کے موافق خدا تعالیٰ کے وجود کو بھی ایک ایسا وجود سمجھا گیا تھا کہ جو صرف مخلوق میں مخلوط ہے اور مد بر بالا رادہ نہیں۔ اور سلسلہ نبوت سے ٹھٹھا کیا جاتا تھا۔ لہذا حضرت عیسیٰ کے مبعوث کرنے سے جو حضرت موسیٰ سے چودہ سو برس بعد آئے خدا تعالیٰ کا یہ ارادہ تھا کہ موسوی نبوت کی صحت اور اس سلسلہ کی حقانیت پر تازہ شہادت قائم کرے اور نئی تائیدات اور آسمانی گواہوں سے موسوی عمارت کی دوبارہ مرمت کر دیوے۔ اسی طرح جو اس اُمت کے لئے مسیح موعود بھی چودھویں صدی کے سر پر بھیجا گیا اُس کی بعثت سے بھی یہی مطلب تھا کہ جو یورپ کے فلسفہ