کشف الغطاء — Page 293
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۲۹۳ ايام الصلح غرض جبکہ یہ ثابت ہوا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم درحقیقت مثیل موسیٰ ہیں تو تکمیل مماثلت کا یہ تقاضا تھا کہ ان کے پیروؤں اور خلفاء میں بھی مماثلت ہو۔ اور یہ بات ضروری تھی کہ جیسا کہ موسیٰ اور سید نا محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں ایک اشد اور اکمل من مل مشابہت مومنوں کے نجات دینے اور کافروں کو عذاب مشابہت باہم دینے کے بارے میں پائی گئی ان دونوں بزرگ نبیوں کے آخری خلیفوں میں بھی کوئی ۔ پائی جائے ۔ سو جب ہم سوچتے ہیں تو جیسا کہ ابھی میں نے بیان کیا ہے نہ صرف ایک مشابہت بلکہ کئی مشابہتیں ثابت ہوتی ہیں جو مجھ میں اور حضرت عیسی علیہ السلام میں پائی جاتی ہیں ہیں ☆ اس جگہ طبعاً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ برگزیدہ انسان جس کا یہودیوں کو تو ریت میں وعدہ دیا گیا تھا کہ وہ اُن کے زوال سلطنت کے وقت میں ظاہر ہوگا اور وہ سلسلہ خلافت موسویہ کا آخری خلیفہ ہوگا ایسا ہی وہ انسان جس کا قرآن شریف اور حدیثوں میں وعدہ دیا گیا تھا کہ وہ آخری زمانہ میں غلبہ صلیب کے وقت ظاہر ہوگا اِن دونوں انسانوں کا مسیح کیوں نام رکھا گیا ؟ نوٹ : - اصل حقیقت یہ ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام جس زمانہ میں مبعوث ہوئے ہیں اُس زمانہ میں سلطنت کی طرف سے کوئی مذہبی سختی نہیں تھی۔ بعینہ انگریزی سلطنت کی طرح ہر ایک کو آزادی دی گئی تھی سلطنت رومیہ ہرگز تلوار کے ساتھ اپنے مذہب کو نہیں پھیلاتی تھی جیسا کہ آج کل سلطنت برطانیہ ہے۔ ہاں رومی گورنمنٹ میں باعث عام آزادی اور یونانی فلسفہ کے پھیلنے کے مذہبی تقویٰ اور طہارت بہت کم ہوگئی تھی ۔ یونانی فلسفہ کی تعلیم نے لوگوں کو قریب قریب دہریہ کے بنا دیا تھا۔ سواُس وقت ایسے نبی کی ضرورت نہ تھی جو تلوار کے ساتھ آتا جیسا کہ اب ضرورت نہیں کیونکہ مقابل پر مذہب کے لئے تلوار اٹھانے والا نہ تھا اس لئے خدا نے ایک نبی جس کا نام عیسی تھا محض روح القدس کی برکت کے ساتھ بھیجا تا دلوں کو روحانی تاثیر سے خدا تعالیٰ کی طرف پھیرے اور دوبارہ خدا کا جلال دنیا میں قائم کرے۔ اور مقدر تھا کہ اسی طرح مثیل موسیٰ کے سلسلہ کے آخر میں روحانی طاقت کے ساتھ ایک شخص آئے گا جو اس سلسلہ کا مسیح موعود ہوگا کیونکہ وہ بھی نہ لڑے گا نہ تلوار نکالے گا اور محض روحانی طاقت سے سچائی کو پھیلائے گا کیونکہ وہ سلطنت بھی امن اور آزادی کی سلطنت ہوگی اور اسی قسم کا روحانی فساد ہوگا جو رومی سلطنت کے وقت میں تھا۔ منہ