کشف الغطاء — Page 222
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۲۲۲ كشف الغطاء بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلَّى میری وہ پیشگوئی جو الہام ۲۱ نومبر ۱۸۹۸ء میں فریق کا ذب کے بارے میں تھی یعنی اس الہام میں جس کی عربی عبارت یہ ہے کہ جزاء سيئة بمثلها وه مولوی محمد حسین بٹالوی پر پوری ہو گئی میری التماس ہے کہ گورنمنٹ عالیہ اس اشتہار کو توجہ سے دیکھے مندرجه عنوان امر کی تفصیل یہ ہے کہ ہم دو فریق ہیں ایک طرف تو میں اور میری جماعت اور دوسری طرف مولوی محمد حسین اور اس کی جماعت کے لوگ یعنی محمد بخش جعفر زٹلی اور ابوالحسن تبتی وغیرہ ۔۔۔۔۔۔۔ محمد حسین نے مذہبی اختلاف کی وجہ سے مجھے دجال اور کذاب اور ملحد اور کافر ٹھہرایا تھا اور اپنی جماعت کے تمام مولویوں کو اس میں شریک کر لیا تھا۔ اور اسی بنا پر وہ لوگ میری نسبت بد زبانی کرتے تھے اور گندی گالیاں دیتے تھے ۔ آخر میں نے تنگ آ کر اسی وجہ سے مباہلہ کا اشتہا ر ۲۱ نومبر ۹۸ جاری کیا جس کی الہامی عبارت جزاء سيئة بمثلها میں یہ ایک پیشگوئی تھی کہ ان دونوں فریق میں سے جو فریق ظلم اور زیادتی کرنے والا ہے اس کو اسی قسم کی ذلت پہنچے گی جس قسم کی ذلت فریق مظلوم کی کی گئی ۔ سو آج وہ پیشگوئی پوری ہوگئی کیونکہ مولوی محمد حسین بٹالوی نے اپنی تحریروں کے ذریعے سے مجھے یہ ذلت پہنچائی تھی کہ مجھے مسلمانوں کے اجماعی عقیدہ کا مخالف ٹھہرا کر ملحد اور کافر اور دجال قرار دیا اور مسلمانوں کو اپنی اس قسم کی تحریروں سے میری نسبت بہت اکسایا کہ اس کو مسلمان اور اہل سنت مت سمجھو کیونکہ اس کے عقائد تمہارے عقائد سے مخالف ہیں ۔ اور اب اس شخص کے رسالہ ۱۴ اکتوبر ۱۸۹۸ء کے پڑھنے سے