کشف الغطاء — Page 126
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۱۲۶ نجم الهدى هذه القرية إلا وتُريني الآية أو تقر سے دیکھا اور کہا کہ میں اس گاؤں سے کبھی بكذبك وبما اخترت الفرية۔ وساء نہیں جاؤں گا جب تک کہ تم نشان نہ دکھلاؤ الحضــار مـا اختار من غلظ وشدّة، اور یا اپنے جھوٹ کا اقرار نہ کرو اور فبردتهم بوصية صبر وتؤدة، وكانوا حاضرین کو اُس کی سخت زبانی بُری معلوم من الذين أخذوا مربعی منتجعهم ہوئی ۔ پس میں نے ان کو صبر کی وصیت و دارى محضرهم، وحسبوا إلهامی کے ساتھ ٹھنڈا کیا ۔ پھر میں نے اس کو کہا مرتعهم ومخبرهم۔ ثم قلت له يا هذا که اے شخص! نشان ایسی چیز تو نہیں جو إن الآية ليست کشیء ملقاة تحت قدموں کے نیچے پڑی ہو اور فی الفور دکھلا الأقدام لألـقـطه لك و أعطيك دی جائے ۔ بلکہ نشان خدا کے پاس ہیں كالخادم بالإكرام، بل الآيات عند الله جب چاہتا ہے دکھاتا ہے ۔ اور گاؤ دشتی يُرى إذا ما شاء ، ولا ينفع الوثب كشور کی طرح کو دنا مناسب نہیں ۔ پس لڑائی الوحش فإياك والمراء ، والصبر حقیق سے پر ہیز کر ۔ اور جو شخص نشانوں کو ڈھونڈتا لمن طلب آی الله وجاء يستقرى الضیاء ہے اس کے لئے صبر کرنا بہتر ہے کیونکہ نگریست و گفت ابدا ازیں وہ نروم تا نشانی از شما نه بینم یا شما سپر عجز بیفگنید - حاضران از گفتار تلخ و درشتش بر نجیدند۔ من از پند صبر آب بر آتش ایشان زدم و بآخر اورا گفتم اے فلان نشان چیزی نیست که پیش پا افتاده باشد یا حقہ مشعبد نه که دراں انجو به نموده شود بلکه نشانها نزد خداست وقتی که می خواهد نشان می دهد و چوں گاؤ دشتی تپیدن روا نیست از ستیز و آویز پر ہیز کن۔ ہر کہ طالب نشان باشد اور اصبر لازم است ۔ چه نشان از طرف خدا نازل می گردد و