کشف الغطاء — Page 112
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۱۱۲ نجم الهدى هذه وتحسبونها هذیانی، وتزعمون ایمان نہیں اور گمان کرتے ہو کہ میں کا ذب أني في قولى هذا من الكاذبين فأتوا ہوں ۔ پس تم بھی کوئی ایسی کتاب بنا کر لاؤ اگر بكتاب من مثلها إن كنتم صادقين۔ تم سچے ہو۔ اور اگر تم حق پر ہو گے جیسا کہ وإن كان الحق عندكم كما أنكم تمہارا گمان ہے ۔ پس خدا تعالیٰ ضرور تمہاری عزت ظاہر کرے گا اور غالب ہو گے اور تمہیں تزعمون، فسيبدى الله عزّتكم ولا تغلبون ولا ترجعون كالخاسرين، فلا يعاتبكم بعده معاتب، ولا يزدريكم کچھ نقصان نہیں ہو گا ۔ پھر بعد اس کے کوئی عتاب کرنے والا تمہیں عتاب نہیں کرے گا اور کوئی مخاطب عیب گیری پر قادر نہیں ہو گا اور ہو۔ (۲۱) مخاطب، ويستيقن الناس أنكم من لوگ یقین کر لیں گے کہ تم امین اور صالح الأمناء ومن الصالحين۔ وإن كنتم لا اور اگر تم بباعث قلت علم اور عقل کے مقابلہ کی تقدرون عليه لقلة العلم والدهاء، قدرت نہیں رکھتے ۔ پس اٹھو اور ان لوگوں فانهضوا وادعوا مشهورين منكم کو بلا لو جو تحریر اور تقریر میں تم میں مشہور ہیں بالتكلـم والإملاء ، والمعروفين من اور ادیب ہونے میں شہرت رکھتے ہیں اور الأدباء۔ وإني عرضت عليكم أمرا میں نے ایسا امر تم پر پیش کیا ہے جس میں فيه عزة الصادق وذلة الكاذب، بچے کی عزت اور جھوٹے کی ذلت ہے و بیان و تبیان مرا نچشم انکار می بینید و بایں نشان من ایمان نمی آرید ۔ وایں راہرزہ درائی و ژاژ خائی برمی شمارید لازم کہ کتا بے مثل آن بیارید اگر بوئے از راستی دارید - واگر شمار است استید بر وفق آنچه می پندارید البته خدا دست شما را بالا کند و بزرگی شما پدیدار گردد و زیانے بشما نہ رسد و پس ازاں بیچ نکو ہندہ شمار انفرین نکند و مخاطبے در پئے خورده گیری شما نشود و مردم خواهند دانست که شما در حقیقت امانت گزار و راست کار هستید و اگر شما به سبب قلت علم و عقل مرد میدان مقابله نیستید برخیزید و آن مردمان را جمع آرید که در تحریر و تقریر از میانه شما سر بر آورده و نامی می باشند و بر ادب نازها دارند ۔ ومن امری در پیش شما اظهار کردم که باعث بر عزت صادق وذلت کا ذب خواهد بود