کشف الغطاء — Page 106
روحانی خزائن جلد ۱۴ ١٠٦ نجم الهدى فما استطاعوا أن يأتوا بالمعاذير پس وہ لوگ کوئی عذر معقول پیش نہیں کر سکتے المعقولة أو ينقضوا أحدًا من الأدلة اور نہ کسی دلیل کو توڑ سکتے ہیں اور میرا وقت وكان وقتي هذا وقت كانت العيون ایک ایسا وقت تھا کہ نہایت بے قراری سے فيها مدت إلى السماوات من شدّة آنکھیں آسمان کی طرف لگی ہوئی تھیں ۔ کیونکہ الكربة، بما أضل الناس أهل الدجل ابل وجل نے جہاں تک ان کے لئے ممکن تھا بكل ما أمكن لهم من الأطماع طمع اور دھوکہ دینے سے لوگوں کو گمراہ کیا ہے۔ والاختضاع والخديعة۔ ثم مع پھر با وجود اس کے اس زمانہ میں مسلمانوں ذالک کثر التشاجر في هذا الزمان میں نہایت درجہ کا اختلاف واقع ہے اور کوئی بين الأمة، وما بقى عقيدة إلا وفيه اليسا عقیدہ باقی نہیں رہا جس میں مسلمانوں اختلاف و نزاع فى الفرق الإسلامية کے فرقوں میں اختلاف اور نزاع نہ ہو اور واقتضت الطبائع حَكَمًا ليحكم لوگوں کی طبیعتوں نے ایک حکم چاہا جو عدل بالعدل والنصفة، فحكمنی ربّی اور انصاف سے فیصلہ کرے سو خدا تعالیٰ نے مجھے وأراد أن يرفع إلى مشاجراتهم حكم مقرر فرمادیا تا کہ ان کے اختلافات کے را یکسر بر بسته ام و در قدرت انها نمانده که عذرے معقول در پیش آرند یا حجتے را از حجت ہائے من بر شکنند ۔ وایس وقت وقتی بوده که دیده با از بس بے تابی منتظر آن بودند زیرا کہ اہل دجل و فریب هر قدر ممکن بود از راه فریب و آز فزائی مردم را از راه بردند ۔ علاوہ ازاں در این زمان خود درمیانہ فرقہ ہائے اہل اسلام جنگ و جدل و دار و گیر و پیکار از پایان در گذشته عقیده نمانده که در نز د فرقه از فرق اسلام اختلاف و نزاع دراں نباشد - لا جرم طبیعت با بصد جان حکمی را آرزو کردند که بعدل و نصفت درمیانہ ایں ہمہ اختلافات نور را از ظلمت ممتاز ساز دلهذا خداوند بزرگ مرا حکم مقرر فرمود تا مرافعہ ہمہ قضیہ ہائے اختلافات