کشف الغطاء — Page 92
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۹۲ نجم الهدى والدعاء۔ فاشكروا الله أنه موجود فی ہوگی ۔ پس خدا تعالیٰ کا شکر کرو کہ وہ تمہارے زمانہ اور تمہارے ملک میں موجود ہے اور وہی زمنكم وفي هذه البلدان، وأنه هو | تو ہے جو اس وقت تم سے کلام کر رہا ہے اور یہ الذي يكلمكم في هذا الأوان، وهذا وہ دن ہے جس میں برکات نازل ہو رہے ہیں يوم تنزل فيه البركات، وتظهر اور نشان ظاہر ہو رہے ہیں اور ایمان کا مسافر الآيات، ويعود الإيمان الغريب إلى اپنے وطن کی طرف رجوع کر رہا ہے اور اس موطنه، ويخرج لؤلؤ العلم من معدنه كے معدن سے علم کے موتی نکل رہے ہیں ۔ یہ وہ دن ہے جس سے کفار کے دلوں میں دھڑ کا بیٹھ گیا ہے اور غلبہ رقت کی وجہ سے ابرار کی آنکھوں سے آنسوؤں کے چشمے ظاہر ہو رہے ہیں ۔ یہ دن غافلوں کے جاگنے کا دن الغافلين، ورقة المتيقظين۔ و اور جاگنے والوں کی رقت قلب کا دن ہے۔ مسيح العالى ومسيح تحت الثرى ۔ وسمى : آسمان کا مسیح اور زمین کا مسیح - منه هذا هو اليوم الذي توجست منه قلوب الكفار، وانبجست رقةً عيون عيون الأبرار، وهذا يوم تقيظ * بقية الحاشية المسيح الصديق عيسى۔ لما عيس من بطشة | القوم كابن مريم امام الهدى۔ وعيس من جور السلطنت مع الضعف والمسكنة وتهاويل اخرى۔ منه بقیه حاشيه خواهد بود خدا را شکر بجا آرید که او در ملک شما و در میانه شما موجود و همان است که با شما تکلم می کند و ایں روز بیست که برکات در آن نزول می فرماید و نشانها آشکار می شود و ایمان غریب بوطن خود باز پس می آید و کان وے در علم بیرون می دهد ۔ ایس روزی است که خفقا نے ازاں در دل کفار راه یافته و دیده پاکان از کمال رفت چشمہ ہائے سر اشک روانه ساخته اند امروز روز بیداری غافلان و رقت بیداران و روز قبول دست بساید او مسیح صدیق و کارا و تائید حق در پانیدن غریق است و لفظ مسح بر مسیح آسمان و سح زمین هر دو اطلاق سے یا بد ۔ منہ سہو کتابت معلوم ہوتا ہے تیقظ “ ہونا چاہیے۔ ترجمہ سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے۔ ( ناشر )