کشف الغطاء — Page 75
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۷۵ نجم الهدى والنفوس قد فارت، وأهواء الدنيا اور نفسوں نے جوش مارا اور دنیا کی خواہشیں عليها غلبت، وكثرت الحجب غالب آ گئیں اور پردے بڑھ گئے ۔ سو وہ وتوالت فیرون ثم لا يرون، دیکھ کر پھر نہیں دیکھتے اور سنتے ہیں اور پھر بھلا ويسمعون ثم يتناسون، فليس علاج دیتے ہیں ۔ پس اس بیماری کا بجز اس کے اور هذا الداء إلا نور يتنزّل من السماء ، کوئی علاج نہیں کہ آسمان سے نور نازل ہو اور و آيات تتوالى من حضرة الكبرياء ، پے در پے نشان ظاہر ہوں کیونکہ ایمان فإن الإيمان ضعف و کثرت وساوس | ضعیف ہو گیا اور شیطانی وسوسے بڑھ گئے الخناس، وبلغ الأمر إلى اليأس ہیں اور نومیدی تک نوبت پہنچ گئی ہے اور اکثر وغلبت على أكثر القلوب محبة دلوں پر دنیا کی محبت غالب آگئی ہے اور جہاں الدنيا الدنية، وأينما وجدوها فيسعون | دنیا کو پاویں پس اسی طرف دوڑتے ہیں اور إلى تلك الناحية، وما بقى تعلق ایمان اور ملت سے کوئی تعلق باقی نہیں رہا۔ بالإيمان والملة۔ فههنا ليس رزء پس اس جگہ ایک مصیبت نہیں ہے بلکہ دو واحدا بل يوجد رز آن رزء التنصر مصیبتیں ہیں ۔ ایک مصیبت عیسائی ہونے دلها کور و دانشها تاریک شد و آز و هوا در جوش و حب دنیا در خروش آمد پرده بر پرده افزونی گرفت تا نور دیده تاریک شد می شنوند واز دل بروں کنند ۔ لہذا چارہ جہت ایں مرض نیست بجز اینکه نوری از آسمان نازل شود و پیاپئے نشانها پدیدار شوند چه ایمان ناتوان ۱۴ گردیده و وسوسہ ہائے شیطانی رو به ترقی و نوبت به یاس رسیده است و بسیاری از دلها مغلوب حب دنیا شدہ ہر جا آنرا بیابند در زمان بسوئی آں شتابند ۔ میل خاطر به ایمان و دین نمانده است ۔ در حقیقت اینجا نه یک مصیبت بلکه دو تا مصیبت است یعنی مصیبت تنصر و