کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 55 of 417

کرامات الصادقین — Page 55

روحانی خزائن جلدے ۵۵ كرامات الصادقين عیسائیوں میں نہیں پائی جاتیں بلکہ حضرت عیسیٰ نے یہ بات کہہ کر کہ اگر رائی کے دانہ کے ﴿۱۳﴾ برابر بھی تم میں ایمان ہو تو یہ تمام کام جو میں کرتا ہوں تم کرو گے بلکہ مجھ سے زیادہ کرو گے اس بات پر مہر لگا دی کہ تمام عیسائی بے ایمان ہیں اور جب بے ایمان ہوئے تو اُن کو یہ حق بھی نہیں پہنچتا کہ کسی سے سچائی دین کے بارے میں بحث کریں جب تک پہلے اپنی ایمانداری ثابت نہ کر لیں کیونکہ ان کی حالت یہ گواہی دے رہی ہے کہ بوجہ نہ پائے جانے قرار داده علامتوں کے یا تو وہ بے ایمان ہیں اور یا وہ شخص کا ذب ہے جس نے ایسی علامتیں ان کے لئے قرار دیں جو انمیں پائی نہیں جاتیں اور دونوں طور کے احتمال کی رُو سے ثابت ہوتا ہے کہ عیسائی لوگ سچائی سے بکلی دور و مہجور و بے نصیب ہیں مگر قرآن کریم نے اپنے پیروؤں کے لئے جو علامتیں قرار دی ہیں وہ صدہا مسلمانوں میں پائی جاتی ہیں جس سے ثابت ہو گیا کہ قرآن کریم خدا تعالیٰ کا برحق کلام ہے لیکن اگر عیسائیوں کو ایماندار مان لیا جاوے تو ساتھ ہی ماننا پڑیگا کہ انجیل موجودہ کسی ایسے شخص کا کلام ہے کہ جو جھوٹی پیشگوئیوں کے سہارے سے اپنے گروہ کو قائم رکھنا چاہتا ہے مگر یادر ہے کہ اس تقریر سے حضرت مسیح علیہ السلام پر ہمارا کوئی حملہ نہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ اگر یہ باتیں حضرت مسیح کی طرف سے ہیں تو انہوں نے ایمانداروں کی یہ نشانیاں لکھ دیں۔ پھر اگر کوئی ایمانداری کو چھوڑ دے تو حضرت مسیح کا کیا قصور ۔ بلکہ حضرت مسیح نے ان علامات کے لباس میں عیسائیوں کے بے ایمان ہو جانے کے زمانہ کی ایک پیشگوئی کر دی ہے یعنی یہ کہہ دیا ہے کہ جب اے عیسا ئیو تمہارے پر ایسا زمانہ آوے کہ تم میں یہ علامتیں نہ پائی جاویں تو سمجھو کہ تم بے ایمان ہو گئے اور ایک رائی کے دانہ کے برابر بھی تم میں ایمان نہ رہا۔ اس میں شک نہیں کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور سے پہلے عیسائیوں کے بعض خواص افراد میں یہ علامتیں پائی جاتی تھیں اور خوارق اُن سے ظہور میں آتے تھے لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ بعثت میں جب وہ لوگ بہ باعث نہ قبول کرنے اُس آفتاب