کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 47 of 417

کرامات الصادقین — Page 47

روحانی خزائن جلدے ۴۷ كرامات الصادقين دیکھیں گے کہ وہ سہو اور نسیان سے مبرا ہیں یا نہیں اور کوئی غلطی صرف اور نحو کی رو سے ان میں ﴿۵﴾ پائی جاتی ہے یا نہیں اگر نہیں پائی جائیگی تو پھر بالمقابل تفسیر لکھنے اور سوا شعر کا قصیدہ بنانے میں کچھ عذر نہ ہوگا مگر دانشمندوں نے سمجھ لیا کہ بطالوی صاحب نے اپنی جان بچانے کیلئے یہ حیلہ نکالا ہے کیونکہ ان کو خوب معلوم ہے کہ عربی یا فارسی کی کوئی مہ ب معلوم ہے کہ عربی یا فارسی کی کوئی مبسوط تالیف سہو اور غلطی سے خالی نہیں ہو سکتی اور حیلہ جو کیلئے کوئی نہ کوئی لفظ گو سہو کا تب ہی سہی حجت پیش کرنے کیلئے ایک سہارا ہو سکتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے بہت ہاتھ پیر مار کر اور مثل مشہور مرتا کیا نہ کرتا پر عمل کر کے یہ شرمناک عذر پیش کر دیا اور اپنے دل کو اس بازاری چال بازی سے خوش کر لیا کہ کسی ایک سہو کا تب یا فرض کرو اتفاقاً کسی غلطی کے نکلنے سے یہ حجت ہاتھ آجائے گی کہ اب غلطی تمہاری کسی کتاب میں نکل آئی اس لئے اب بحث کی ضرورت نہیں رہی لیکن افسوس کہ بطالوی صاحب نے یہ نہ یہ نہ سمجھا کہ نہ مجھے اور کسی نہ انسان کو بعد انبیاء علیہم ال نہ السلام کے معصوم ہونے کا دعوی ہے۔ جو شخص عربی یا فارسی میں مبسوط کتابیں تالیف کرے گا ممکن ہے کہ حسب مقولہ مشهوره قلما سلم مکثار کے کوئی صرفی یا نحوی غلطی اُس ۔ ی غلطی اُس سے ہو جائے اور باعث خطاء نظر کے اُس غلطی کی اصلاح اصلاح نہ ہو سکے۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ سہو کا تب سے کوئی غلطی چھ چھپ جائے ☆ اور بباعث ذہول بشریت مؤلف کی اس پر نظر نہ پڑے پھر اس یکطرفہ نکتہ چینی میں دونوں فریق کی علمی طاقتوں کا موازنہ کیونکر ہو۔ غرض بطالوی صاحب کے ایسے بیہودہ جوابات سے یقینی طور پر معلوم ہو گیا کہ علم تفسیر اور علم ادب میں قسام حقیقی نے ان کو کچھ بھی حصہ نہیں دیا اور بحجر لعن وطعن اور چال بازی کی مشق کے اور کچھ بھی اُن کے دل اور دماغ اور زبان کو لوازم انسانیت نہیں ملی اسی وجہ سے اول مجھے اُن کے اس قسم کے تعصبات کو دیکھ کر دل میں یہ خیال آیا تھا کہ اب ہمیشہ کے لئے ان سے اعراض کیا جائے۔ لیکن عوام کا یہ غلط خیال دور کرنے کے لئے کہ گویا میاں محمد حسین بطالوی یا دوسرے مخالف مولوی جو اس بزرگ کے ہم مشرب ہیں علم ادب اور حقائق تفسیر سہو کتابت معلوم ہوتا ہے نہ کسی “ ہونا چاہیے۔(ناشر)