کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxiv of 417

کرامات الصادقین — Page xxiv

قاعدہ کے مطابق کہ عدد مذکر اور معدود مفرد ہو۔قطعنا ھم اثنی عشر سبطاً اور آیت والمطلقات یَتَرَبَّصْنَ بانفسھن ثلاثۃ قروءٍ میں اقرءٍ یا اقراءٍ جمع قلّت کا صیغہ استع<mark>ما</mark>ل ہونا چاہئے تھا۔اِسی طرح ایامًا معدودات کی بجائے ایامًا معدودۃ۔(۳) ض<mark>ما</mark>ئر کی غلطیاں جیسے آیت ہٰذان خص<mark>ما</mark>ن اختصموا میں اختص<mark>ما</mark>۔اور اسروا النجوی الذین ظلموا میں اَسَرَّ۔اور آیت وان طائفتان <mark>من</mark> المؤ<mark>من</mark>ین اقتتلوا میں اقتتلا اور آیت ان لکم فی الانعام لعبرۃ نسقیکم م<mark>ما</mark> فی بطونہ میں بطونھا ہونا چاہئے۔(۴) پھر بعض آیتیں پہلوں کے اقوال سے <mark>ما</mark>خوذ ہیں۔مثلاً آیت فاذا انشقت الس<mark>ما</mark>ء فکانت وردۃ کالدھان عنتر کے شعر۔وان ام الارض صارت وردۃ مثل الدھان سے اور آیت خلق الانسان <mark>من</mark> صلصال کالفخار۔امیہ بن الصلت کے شعر ؂ کیف الجحود و ان<mark>ما</mark> خلق الفتی <mark>من</mark> طین صلصال لہ فخار سے <mark>ما</mark>خوذ ہے۔۱؂ الغرض عیسائیوں نے قرآن مجید کو غیر فصیح اور نحوی و صرفی غلطیوں سے غیر مبّرا قرار دے کر اس کے کلامِ الٰہی ہونے سے انکار کیا ہے۔ہ<mark>ما</mark>رے نزدیک ان کے یہ سب اعتراضات لغو اور باطل ہیں اور اصح اور افصح اور ابلغ عربی زبان وہی ہے جو قرآن مجید کی زبان ہے۔اور عربی زبان سے متعلق اسی سوال کا جواب دیتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جو تحریر فر<mark>ما</mark>یا ہے وہ بالکل صحیح اور درست ہے۔حضورؑ فر<mark>ما</mark>تے ہیں:۔’’بعض نادانوں نے قرآن شریف پر بھی اپنی مصنوعی نحو کو پیش نظر رکھ کر اعتراض کئے ہیں مگر یہ ت<mark>ما</mark>م اعتراض بے ہودہ ہیں۔زبان کا علمِ وسیع خدا کو ہے نہ کسی اور کو۔اور زبان جیسا کہ تغیّر مکانی سے کسی قدر بدلتی ہے۔ایسا ہی تغیر ز<mark>ما</mark>نی سے بھی تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں۔آج کل کی عربی زبان کا اگر محاورہ دیکھا جائے جو مصر اور مکّہ اور مدینہ اور دیارِ شام وغیرہ میں بولی جاتی ہے تو گویا وہ محاورہ صرف و نحو کے ت<mark>ما</mark>م قواعد کی بیخ کنی کر رہا ہے اور ممکن ہے کہ اس قسم کا محاورہ کسی ز<mark>ما</mark>نہ میں پہلے بھی گذر چکا ہو۔۔۔۔۔۔