کرامات الصادقین — Page 64
روحانی خزائن جلدے ۶۴ كرامات الصادقين اطلاع کے لئے لکھتا ہوں کہ اگر میاں بطالوی نے میرے ان قصائدار بعہ اور تفسیر سورہ فاتحہ کا مقابلہ کر دکھلایا اور منصفوں کی رائے میں وہ قصائد اور وہ تفسیر اُن کی صرفی نحوی اور بلاغت کی غلطیوں سے مبرا نکلی تو میں ہر یک غلطی کی نسبت جوان قصائد اور تفسیر میں پائی جائے یا میری کسی پہلی عربی تالیف میں پائی گئی ہو پانچ روپیہ فی غلطی شیخ بطالوی کی نذر کرونگا اور میں ناظرین کو یقین دلاتا ہوں کہ شیخ بطالوی علم عربیت سے بکلی بے نصیب ہے غلطیوں کا نکالنا ان لوگوں کا کام ہوتا ہے جو کلام جدید اور قدیم عرب پر نظر محیط رکھتے ہوں اور محاورہ اور عدم محاورہ پر انکو اطلاع ہو۔ اور ہزارہا اشعار عرب کے ان کی نگاہ کے سامنے ہوں اور تبع اور استقراء کا ملکہ ان کو حاصل ہو مگر یہ بیچارہ شیخ جس نے اُردو نویسی میں ریش سفید کی ہے علم ادب اور بلاغت فصاحت کو کیا جانے۔ کبھی کسی نے دیکھا یا سنا کہ کوئی دو چار سو شعر عربی میں اس بزرگ نے نظم کر کے شائع کئے ہوں اور مجھے تو ہرگز ہرگز اس قدر بھی امید نہیں کہ ایک شعر بلیغ و صیح بھی بنا سکتا ہو یا ایک سطر لوازم بلاغت و فصاحت کے ساتھ عربی میں لکھ سکتا ہو ہاں اُردو خوان ضرور ہے۔ ناظرین غور سے دیکھیں کہ اس بزرگ کی عربیت کی حقیقت کھولنے کیلئے اس عاجز نے پہلے اس سے اپنے اشتہار میں لکھا تھا کہ شیخ مذکور میرے مقابل پر ایک تفسیر کسی سورۃ قرآن کریم کی بلیغ و فصیح عبارت میں لکھے اور نیز شنوا شعر کا ایک قصیدہ بھی میرے مقابل پر بیٹھ کر تحریر کرے۔ اگر شیخ مذکور کو عربیت میں کچھ بھی دخل ہوتا تو وہ بڑی خوشی سے میرے مقابلہ میں آتا اور پہلو بہ پہلو بیٹھ کر اپنی عربی دانی کی لیاقت دکھلا تا لیکن اس کے اشاعۃ السنہ نمبر ۸ جلد ۱۵ کو صفحہ ۱۹۰ سے ۱۹۲ تک بغور پڑھنا چاہئے کہ کیونکر اس نے رکیک شرطوں سے اپنا پیچھا چھوڑایا ہے۔ چنانچہ ان صفحات میں لکھا ہے کہ اس مقابلہ سے پہلے کتاب دافع الوساوس کی عربی عبارت کی غلطیاں ثابت کریں گے اور نیز کتاب فتح اسلام اور توضیح مرام کے کلمات کفر والحاد