کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 58 of 417

کرامات الصادقین — Page 58

روحانی خزائن جلدے ۵۸ كرامات الصادقين ساتھ لڑائی کا حکم نہیں۔ ایسا ہی اندرونی طور پر بھی انجیل میں قوم کی باہمی حفظ حقوق کیلئے یا مجرم کو پاداش جرم کے لئے کوئی سزا اور قانون نہیں۔ اور صرف رحم اور عفو اور درگذر کے پہلو پر اگر چه جین مت سے بہت کم مگر تا ہم اس قدر زور ڈال دیا گیا ہے کہ دوسرے پہلوؤں کا گویا خیال ہی نہیں ۔ اگر چہ ایک گال پر طمانچہ کھا کر دوسری بھی پھیر دینا ایک نادان کی نظر میں بڑی عمدہ تعلیم معلوم ہو گی مگر افسوس کہ ایسے لوگ نہیں سمجھتے کہ کیا کسی زمانہ کے لوگوں نے اسپر عمل بھی کیا اور اگر بفرض محال عمل کیا تو کیا یہی آبادی رہی اور لوگوں کی جان و مال اور امن میں کچھ خلل نہ ہوا۔ کیا یہ تعلیم دنیا کے پا ا یہ تعلیم دنیا کے پیدا کرنے والے کے اُس قانون قدرت کے مطابق ہے جس کی طرف انسانوں کی طبائع مختلفہ محتاج ہیں۔ کیا نہیں دیکھتے کہ تمام طبائع جرائم کی سزادینے کی طرف بالطبع جھک گئیں اور ہر یک سلطنت نے انسداد جرائم کے لئے یہی قانون مرتب کئے جو مجرموں کو قرار واقعی سزادی جائے اور کسی ملک کا انتظام بجز قوانین سزا کے مجرد رحم سے چل نہ سکا۔ آخر عیسائی مذہب نے بھی اس رحم اور درگذر کی تعلیم سے بیزار ہوکر وہ خونریزیاں دکھلائیں کہ شاید اُن کی دنیا میں نظیر نہیں ہوگی اور جیسے ایک پل ٹوٹ کر ارد گرد کو تہ آب کر دیتا ہے ایسا ہی عیسائی قوم نے درگذر کی تعلیم کو چھوڑ کر کام دکھلائے۔ سو ان دونوں کتابوں کا نا تمام اور ناقص ہونا ظاہر ہے لیکن قرآن کریم اخلاقی تعلیم میں قانون قدرت کے قدم بہ قدم چلا ہے ۔ رحم کی جگہ جہاں تک قانون قدرت اجازت دیتا ہے رحم ہے اور قہر اور سزا کی جگہ اسی اصول کے لحاظ سے قہر اور سزا اور اپنی اندرونی اور بیرونی تعلیم میں ہریک پہلو سے کامل ہے اور اس کی تعلیمات نہایت درجہ کے اعتدال پر واقعہ ہیں جو انسانیت کے سارے درخت کی آبپاشی کرتی ہیں نہ کسی ایک شاخ کی ۔ اور تمام قوی کی مرتی ہیں نہ کسی ایک قوت کی ۔ اور در حقیقت اسی اعتدال اور موزونیت کی طرف اشارہ ہے جو فرمایا ہے كِتبًا مُّتَشَابِھا ۔ پھر بعد اس کے مثانی کے لفظ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ قرآن کریم کی آیات معقولی اور الزمر : ۲۴