جنگ مقدّس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 401 of 502

جنگ مقدّس — Page 401

روحانی خزائن جلد ۶ ۳۹۹ شهادة القرآن دوسرے یہ کہ ابھی ہمارے سامان نہایت نا تمام ہیں اور صادق جاں فشاں بہت کم اور بہت سے کام ہمارے اشاعت کتب کے متعلق قلت مخلصوں کی سبب سے باقی پڑے ہیں پھر ایسی صورت میں جلسہ کا اتنا بڑا اہتمام جو صد ہا آدمی خاص اور عام کئی دن آ کر قیام پذیر رہیں اور جلسہ سابقہ کی طرح بعض دور دراز کے غریب مسافروں کو اپنی طرف سے زاد راہ دیا جاوے اور کما حقہ کئی روز صد ہا آدمیوں کی مہمانداری کی جاوے اور دوسرے لوازم چار پائی وغیرہ کا صد ہا لوگوں کے لئے بندو بست کیا جائے اور ان کے فروکش ہونے کے لئے کافی مکانات بنائے جائیں ۔ اتنی توفیق ابھی ہم میں نہیں اور نہ ہمارے مخلص دوستوں میں ۔ اور یہ بات ظاہر ہے کہ ان تمام سامانوں کو درست کرنا ہزار ہا روپیہ کا خرچ چاہتا ہے اور اگر قرضہ وغیرہ پر اس کا انتظام بھی کیا جائے تو بڑے سخت گناہ کی بات ہے کہ جو ضروریات دین پیش آ رہی ہیں وہ تو نظر انداز رہیں اور ایسے اخراجات جو کسی کو یاد بھی نہیں رہتے اپنے ذمہ ڈال کر ایک رقم کثیر قرضہ کی خواہ نہ خواہ اپنے نفس پر ڈال لی جائے ۔ ابھی باوجود نہ ہونے کسی جلسہ کے مہمانداری کا سلسلہ ایسا ترقی پر ہے کہ ایک برس سے یہ حالت ہو رہی ہے کہ کبھی تمہیں تھیں چالیس چالیس اور کبھی سوتک مہمانوں کی موجودہ میزان کی ہر روزہ نوبت پہنچ جاتی ہے جن میں اکثر ایسے غر با فقرا دور دراز ملکوں کے ہوتے ہیں جو جاتے وقت ان کو زاد راہ دیکر رخصت کرنا پڑتا ہے برابر یہ سلسلہ ہر روز لگا ہوا ہے اور اس کے اہتمام میں مکرمی مولوی حکیم نورالدین صاحب بدل و جان کوشش کر رہے ہیں اکثر دور کے مسافروں کو اپنے پاس سے زاد راہ دیتے ہیں چنانچہ بعض کو قریب تھیں تھیں یا چالیس چالیس روپیہ کے دینے کا اتفاق ہوا ہے اور دو دو چار چار تو معمول ہے اور نہ صرف یہی اخراجات بلکہ مہمانداری کے اخراجات کے متعلق قریب تین چار سو روپیہ کے انہوں نے اپنی ذاتی جوانمردی اور کریم انفسی سے علاوہ امدادات سابقہ کے ان ایام میں دیئے ہیں اور نیز طبع کتب کے اکثر اخراجات انہوں نے اپنے ذمہ کر لئے کیونکہ کتابوں کے طبع کا سلسلہ بھی برابر جاری ہے گو بوجہ ایسے لا بدی مصارف کے اپنے مطبع کا اب تک انتظام نہیں ہو سکا لیکن مولوی صاحب موصوف ان خدمات میں بدل و جان مصروف ہیں اور بعض دوسرے دوست بھی اپنی ہمت اور استطاعت کے موافق خدمت میں لگے ہوئے ہیں مگر پھر کب تک اس قدر مصارف کا تحمل نہایت محدود آمد آمدن سے ممکن ہے۔ غرض ان وجوہ کے باعث سے اب کے سال التوائے جلسہ مناسب دیکھتا ہوں آگے اللہ جل شانہ کا جیسا ارادہ ہو کیونکہ اس کا ارادہ انسان ضعیف کے ارادہ پر غالب ہے۔ مجھے معلوم نہیں کہ کیا ہونے والا ہے اور میں نہیں جانتا کہ خدا تعالیٰ کا منشاء