جنگ مقدّس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 338 of 502

جنگ مقدّس — Page 338

روحانی خزائن جلد ۶ ۳۳۶ شهادة القرآن اور شیطان کی پیروی نہ کرو۔ تم پر روز کے فرض کئے گئے ہیں مگر جو تم میں سے بیمار یا سفر پر ہو وہ اتنے روز کے پھر رکھے ۔ تم ایک دوسرے کے مال کو ناحق کے طور پر مت کھاؤ اور تم تقوی اختیار کرو تا فلاح پاؤ اور تم خدا کی راہ میں ان سے جو تم سے لڑیں لڑو لیکن حد سے مت بڑھو اور کوئی زیادتی مت کرو کہ خدا زیادتی کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا اور تم خدا کی راہ میں خرچ بی ہلاکت میں مت ڈالو۔ اور لوگوں سے احسان کرو کہ خدا محسنین کو کرو اور دانستہ اپنے تئیں ؟ نہیں دوست ۲۸ اور ت رکھتا ہے اور حج اور عمرہ کو اللہ کے واسطے پورا کرو اور اپنے پاس تو نہ کر رشتہ رکھو کہ تو شہ میں یہ فائدہ ہے کہ تم کسی دوسرے سے سوال نہیں کرو گے یعنی سوال ایک ذلت ہے اس سے بچنے کے لئے تدبیر کرنی چاہیے اور تم صالح اور اسلام میں داخل ہو۔ اور مشرکات سے نکاح مت کرو جب تک ایمان نہ لاویں اور مشرکین سے اے عور تو تم نکاح مت کرو جب تک ایمان نہ لاویں اور اپنے نفسوں کے لئے کچھ آگے بھیجو اور خدا تعالیٰ کو اپنی قسموں کا اور عرضہ مت بناؤ اور عورتوں کو دکھ دینے کی غرض سے بند مت رکھو اور جو لو ن رکھو اور جو لوگ تم میں سے فوت ہو ا میں سے فوت ہو جائیں جو روئیں رہ جائیں تو وہ چار مہینے اور دس دن نکاح کرنے سے رکی رہیں ۔ اگر تم طلاق دو تو عورتوں کو احسان کے ساتھ رخصت کرو۔ اگر تمہیں خوف ہو تو نماز پیروں سے چلتے چلتے یا سوار ہونے کی حالت میں پڑھ لو۔ اگر اپنے صدقات لوگوں کو دکھلا کے دو تو یہ عموماً اچھی بات ہے کہ تا لوگ تمہارے نیک کاموں کی پیروی کریں اور اگر چھپا کر محتاجوں کو دو تو یہ تمہارے نفسوں کے لئے بہتر ہے جب تم کسی کو قرضہ دو تو ایک نوشہ نوشت لکھا لو اور قرض ادا کر ۔ قرض ادا کرنے میں خدا سے ڈرو اور کچھ باقی مت رکھو اور جب تم کوئی خرید و فروخت کرو تو اس پر گواہ رکھ لو ۔ اور اگر تم سفر میں ہو اور کوئی کا تب نہ ملے تو کوئی جائیداد قبضہ میں کر لو۔ تم سب سے مل کر خدا کی رسی سے پنجہ مارو اور باہم پھوٹ مت ڈالو تم میں سے ایسے بھی ہونے چاہئیں کہ جو امر معروف اور نہی منکر کریں ۔ تم خدا کی مغفرت کی طرف دوڑو اور اگر تم میں سے کسی کی بیوی فوت ہو جاوے تو وہ اس کی جائداد میں سے نصف کا مالک ہے بشرطیکہ اس کی کچھ اولاد نہ ہو اور اگر اولاد ہو تو ؟ پھر اس کو چہارم حصہ جائداد بعد بعد عمل عمل بر وصیت پہنچے گا۔