جنگ مقدّس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 336 of 502

جنگ مقدّس — Page 336

روحانی خزائن جلد ۶ ۳۳۴ شهادة القرآن خواہ وہ روحانی خلیفے ہوں یا ظاہری وہی لوگ ہیں جو متقی اور ایماندار اور نیکو کار ہیں ۔ اور یہ وہم کہ عام معنوں کی رو سے ان آیات کی اخیر کی آیت یعنی وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَسِقُونَ بالکل بے معنی ٹھہر جاتی ہے ایسا بیہودہ خیال ہے جو اس پر ہنسی آتی ہے کیونکہ آیت کے صاف اور سیدھے یہ معنی ہیں کہ اللہ جل شانۂ خلیفوں کے پیدا ہونے کی خوشخبری دے کر پھر باغیوں اور نافرمانوں کو دھمکی دیتا ہے کہ بعد خلیفوں کے پیدا ہونے کے جب وہ وقتاً فوقتاً پیدا ہوں اگر کوئی بغاوت اختیار کرے اور ان کی اطاعت اور بیعت سے منہ پھیرے تو وہ فاسق ۔ ہے۔ اب نا درستی معنوں کی کہاں ہے اور واضح ہو کہ اس آیت کریمہ سے وہ حدیث مطابق ہے جو پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔ من لم يعرف امام زمانه فقد مات ميتة الجاهلية - جس شخص نے اپنے زمانہ کے امام کو شناخت نہ کیا وہ جاہلیت کی موت پر مر گیا یعنی جیسے جیسے ہر یک زمانہ میں امام پیدا ہوں گے اور جو لوگ اُن کو شناخت نہیں کریں گے تو ان کی موت کفار کی موت کے مشابہ ہوگی اور معترض صاحب کا اس آیت کو پیش کرنا کہ قَالَ اللَّهُ إِنِّي مُنَزِّلُهَا عَلَيْكُمْ فَمَنْ يَكْفُرْ بَعْدُ مِنْكُمْ فَإِنِّي أُعَذِّبُهُ عَذَابًا لَّا أُعَذِّبُةَ أَحَدًا مِّنَ الْعَلَمِينَ اور اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ منکم کا لفظ اس جگہ خصوصیت کے ساتھ حاضرین کے حق میں آیا ہے ایک بے فائدہ بات ہے کیونکہ ہم لکھ چکے ہیں کہ قرآن کریم کا عام محاورہ جس سے تمام قرآن بھرا پڑا ہے یہی ہے کہ خطاب عام ہوتا ہے اور احکام خطابیہ تمام امت کے لئے ہوتے ہیں نہ صرف صحابہ کے لئے ۔ ہاں جس جگہ کوئی صریح اور صاف قرینہ تحدید خطاب کا ہو وہ جگہ مستثنی ہے چنانچہ آیا یا کی موصوفہ موصوفہ بالا بالا میں میں خاص حواریوں کے ایک طائفہ اکفہ - نے نزول مائده ۳۹ کی درخواست کی اُسی طائفہ کو مخاطب کر کے جواب ملا ۔ سو یہ قرینہ کافی ہے کہ سوال بھی اسی طائفہ کا تھا اور جواب بھی اسی کو ملا اور یہ کہنا کہ اس کی مثالیں کثرت سے قرآن میں ہیں بالکل جھوٹ اور دھوکا دینا ہے۔ قرآن میں بیاسی کے قریب لفظ منکم ہے اور چھ سو کے قریب اور اور صورتوں میں خطاب ہے لیکن تمام خطابات احکامیہ وغیرہ میں تعمیم ہے النور : ۵۶ - المائدة : ١١٦ سہو کتابت معلوم ہوتا ہے آیت “ ہونا چاہیے۔ (ناشر)