جنگ مقدّس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 207 of 502

جنگ مقدّس — Page 207

۱۱۲ روحانی خزائن جلد ۶ ۲۰۵ جنگ مقدس ہفتم ۔ جس منصو بہ کو جناب مکر وہ فرماتے ہیں کہ گناہ کوئی کرے اور سزا کوئی بھرے اس کا جواب یہ ہے کہ کیا دُنیا میں ایک شخص کا قو ص کا قرضہ دوسرا اپنی دولت سے نہیں ادا کر سکتا ۔ ہاں قرض ایک گناہگار دوسرے کے گناہ نہیں اٹھا سکتا کیونکہ وہ اپنے ہی گناہوں سے فارغ نہیں جیسا کہ جو خود قرضدار ہے وہ دوسرے کے قرضہ کا ضامن نہیں ہو سکتا ۔ پس یہ کراہت مسیح کے کفارہ میں کہاں سے آئی جو گناہگار نہ تھا اور ذخیرہ نجات میں غنی جس کو اس نے اپنے کفارہ سے پیدا کیا تھا۔ ہشتم ۔ خداوند تعالیٰ نے اس نقشہ امتحان میں ہم کو یہ صورت دکھلائی ہے کہ امتحان اعمالی جو ایک ہی خطا پر ختم ہو جاتا تھا اور مہلت تو بہ کی نہ دیتا تھا وہ موقوف کیا گیا بوسیلہ کفارہ مسیح کے بجائے اس کے امتحان ایمانی قائم کیا گیا کہ جس میں بہت سی فرصت تو بہ کی مل سکتی ہے ۔ پس جو خداوند میں مقبول ہیں وہ بھی اِس دُنیا میں امتحان ا اِس دُنیا میں امتحان ایمانی سے بری نہیں ہوئے لیکن اس کے خاتمہ کا دن نزدیک ہے اور جب وہ آئے گا تو اس وقت انسان کامل نجات کو دیکھے گا ۔ فی الحال اس اطمینان ہی کو دیکھتا ہے جو صادق کے وعدہ پر کوئی منتظر تاج و تخت کا ہو ۔ جناب جو فرماتے ہیں ہم کو کوئی ایسا شخص دکھلاؤ جو نجات یافتہ ہو اس سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ نجات جناب کسی ایسی چیز کو کہتے ہیں جیسے بڑا ڈھیلا آنکھوں سے محسوس ہوتا ۔ ہے مگر اطمینان کی تو یہ شکل نہیں بلکہ وہ شکل ہے کہ جیسے ایک نوکد ہے۔ خدالذت زفاف کو بیان نہیں کر سکتی لیکن حقیقت میں اُس کو عزیز مجھتی ہے۔ نہم ۔ جن امور کی یہ بار بار کشش ہوتی ہے کہ آپ بموجب آیات انجیلی - آیات انجیلی کے معجزہ دکھلاؤ ہمارا جواب یہ ہے کہ ہم بار باران مقایات کی شرح حقیقی دکھلا چکے۔ اگر جناب پھر اسی سوال کا تکرار کریں اور ہماری شرح کو ناقص نہ دکھلا سکیں تو انصاف کس کے گھر کے آگے ماتم کر رہا ہے اس کو منصف طبع آپ پہچان لیں گے۔ اب ہمارا سوال جہاں کا تہاں موجود ہے کہ رحم بلا مبادلہ ہرگز جائز نہیں ۔ دستخط بحروف انگریزی ہنری مارٹن کلارک پریزیڈنٹ از جانب عیسائی صاحبان دستخط بحروف انگریزی غلام قادر فصیح پریزیڈنٹ از جانب اهل اسلام