جنگ مقدّس — Page 125
روحانی خزائن جلد ۶ ۱۲۳ جنگ مقدس م ! کیا جائے تو ڈ پٹی صاحب کمال کے لفظ پر گرفت فرماتے ہیں کہ کمال کیا چیز ہے کیا سنار اور لوہار ۳۸ کا کمال بلکہ راہ نجات دکھلانے کا کمال ہوتا ہے۔ اس کے جواب میں لکھا جاتا ہے کہ راہ نجات دکھلانے کا دعوی اس صورت میں اور اس حالت میں کمال متصور ہوگا کہ جب اس کو ثابت کر کے دکھلا دیا جاوے اور پہلے اس سے اس بات کا ذکر کرنا بھی میرے نزدیک بے محل ہے۔ اب واضح ہو کہ اللہ جل شانہ نے قرآن کریم میں اپنی کمال تعلیم کا آپ دعوئی فرمایا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي الخ کہ آج میں نے تمہارے لئے دین تمہارا کامل کیا اور اپنی نعمت یعنی تعلیم قرآنی کو تم پر پورا کیا ۔ اور ایک دوسرے محل میں اس اکمال کی تشریح کے لئے کہ اکمال کس کو کہتے ہیں فرماتا ہے أَلَمْ تَرَكَيْفَ ضَرَبَ اللهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ ۔ تُؤْتِي أَكْلَهَا كُلَّ حِينٍ بِإِذْنِ رَبِّهَا وَيَضْرِبُ اللَّهُ الْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ ۔ وَمَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِيثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِيثَةِ اجْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الْأَرْضِ مَا لَهَا مِنْ قَرَارٍ ۔ يُثَبِّتُ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيُوةِ الدُّنْيَا وَ فِي الْآخِرَةِ الْآخِرَةِ وَيُضِلُّ اللهُ الظَّلِمِينَ ۔ ک (س ۱۳ - (۱۶) کیا تو نے نہیں دیکھا دیکھا کیونکر بیان کی اللہ نے مثال یعنی مثال دین کامل کی کہ بات پاکیزہ درخت پاکیزہ کی مانند ہے جس کی جڑ ثابت ہو اور شاخیں اس کی آسمان میں ہوں اور وہ ہر ایک وقت اپنا پھل اپنے پروردگار کے حکم سے دیتا ہو اور یہ مثالیں اللہ تعالیٰ لوگوں کے لئے بیان کرتا ہے تا لوگ ان کو یاد کر لیں اور نصیحت پکڑ لیں ۔ اور نا پاک کلمہ کی مثال اس نا پاک درخت کی ہے جو زمین پر سے اُکھڑا ہوا ہے اور اس کو قرار و ثبات نہیں ۔ سو اللہ تعالیٰ مومنوں کو قول ثابت کے ساتھ یعنی جو قول ثابت شدہ اور مدلل ہے اس دنیا کی زندگی اور آخرت میں ثابت قدم کرتا ہے اور جو لوگ ظلم اختیار کرنا کرتے ہیں ان کو گمراہ کرتا ہے یعنی ظالم خدا تعالیٰ سے ہدایت کی مدد نہیں پاتا جب تک ہدایت کا طالب نہ ہو۔ اب دیکھیے کہ ڈپٹی صاحب موصوف نے آیت اَکمَلْتُ لَكُمْ کی تشریح میں صرف اتنا فرمایا تھا کہ یہ غالباً امور معاشرت کے متعلق معلوم ہوتی ہے لیکن ڈپٹی صاحب موصوف اس بات کو تسلیم کر چکے ہیں کہ کسی آیت کے وہ معنے کرنے چاہیے کہ الہامی کتاب آپ کرے اور الہامی کتاب کی شرح المائدة : ۲۴ ابراهیم ۲۵ تا ۲۸