جنگ مقدّس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 96 of 502

جنگ مقدّس — Page 96

روحانی خزائن جلد ۶ ۹۴ جنگ مقدس امکان کے برخلاف ہے کہ خدا ایسا نہیں کر سکتا ۔ ( ہمارے نزدیک تو امکان کے برخلاف نہیں)۔ سوم ۔ ہم نے ابن اللہ کو جسم نہیں مانا ۔ ہم تو اللہ کو روح جانتے ہیں جسم نہیں۔ چہارم ۔ امر کے بارہ میں ہماری التماس یہ ہے کہ بیشک تاویل طلب امر کو تا ویل کرنا چاہیے لیکن حقیقت کو چاہیے کہ تاویل کو نہ بگاڑے۔ اگر کوئی حقیقت بر خلاف امر واقعی کے ہے تو بالمرہ حکم بطلان کا اس پر دینا چاہیے نہ کہ بطلان کو مروڑ کے حق بنانا۔ پنجم ۔ امر کے بارہ میں جناب کی خدمت میں واضح ہو کہ لفظ بیٹے اور پہلو ٹھے کا بائبل میں دو طرح پر بیان ہوا ہے یعنی ایک تو یہ کہ وہ یک تن ساتھ خدا کے ہو ، دوم یہ کہ یک من ساتھ رضاء الہی کے ہو۔ ( یک تن وہ ہے جو ماہیت میں واحد ہو۔ اور یک من وہ ہے جو ماہیت کا شریک نہیں بلکہ رضا کا شریک ہو ) ۔ کسی نبی یا بزرگ کے بارہ میں بائیبل میں یہ لکھا ہے کہ ۱۳ اے تلوار میرے چروا ہے اور ہمتا پر اٹھ ( زکریا ۱۳-۷) اور پھر کس کے بارہ میں ایسا لکھا ہے کہ تخت داؤدی پر یہود اصد قنو آوے گا (برمیا ) اور کس نے یہ کہا کہ میں الفا اور میگا و قادر مطلق خداوند ہوں اور کس کے بارہ میں یہ لکھا گیا کہ میں جو حکمت ہوں قدیم سے خدا کے ساتھ رہتی تھی اور میرے وسیلہ سے یہ ساری خلقت ہوئی اور یہ کہ جو کچھ خلقت کا ظہور ہے اسی کے وسیلہ سے ہے خدا باپ کو کسی نے نہیں دیکھا لیکن اکلوتے (خدا) نے اسے ظاہر کر دیا ( یوحنا - ۱۸) اب اس پر انصاف کیجیے کہ یہ الفاظ متعلق یک تن کے ہیں یا یک من کے نیز یہ بھی ایک بات یاد رکھنے کے لائق ہے۔ یسعیاہ ۹-۶ میں کہ وہ جو بیٹا ہم کو بخشا جاتا ہے اور فرزند تولد ہوتا ہے وہ ان خطابوں سے مزین ہے یعنی خدائے قادر ۔ اب ابدیت ۔ شاہ سلامت۔ مشیر ۔ عجوبہ تخت داؤ دی پر آنے والا جس کی سلطنت کا زوال کبھی نہ ہوگا۔ ششم جو آپ نے قرآن سے استدلال کیا ہے مجھے افسوس ہے کہ میں اب تک اس کے الہامی ہونے کا قائل نہیں جب آپ اس کو الہامی ثابت کر کے قائل کر دیں گے تو اس کی سندات آپ ہی مانی جائیں گی۔