جنگ مقدّس — Page 94
روحانی خزائن جلد ۶ ۹۲ جنگ مقدس ہاں اس صورت میں بیٹوں کی میزان بہت بڑھ جائے گی۔ غرض کہ اللہ جل شانہ نے سب سے پہلے ابطال الوہیت کے لئے بھی دلیل استقرائی پیش کی ہے۔ پھر بعد اس کے ایک اور دلیل پیش کرتا ہے وَأُمُّهُ صِدِّيقة ا یعنی والدہ حضرت مسیح کی راستباز تھی۔ یہ تو ظاہر ہے کہ اگر حضرت مسیح کو اللہ جل شانہ کا حقیقی بیٹا فرض کر لیا جاوے تو پھر یہ ضروری امر ہے کہ وہ دوسروں کی طرح ایسی والدہ کے اپنے تولد میں محتاج نہ ہوں جو باتفاق فریقین انسان تھی کیونکہ یہ بات نہایت ظاہر اور کھلی کھلی ہے کہ قانون قدرت اللہ جل شانہ کا اسی طرح پر واقع ہے کہ ہر ایک جاندار کی اولاد اس کی اولاد اس کی نواح کے موافق ہوا کرتی ہے مثلاً دیکھو کہ جس قدر جانور ے ہیں مثلاً انسان اور گھوڑا اور گدھا اور ہر ایک پرندہ وہ اپنی اپنی نوع کے لحاظ سے وجود پذیر ہوتے ہیں یہ تو نہیں ہوتا که انسان کسی پرندہ سے پیدا ہو جاوے یا پرندکسی انسان کے پیٹ سے نکلے۔ پھر ایک تیسری دلیل یہ پیش کی ہے۔ گانا یا كُلنِ الطَّعَامَ کے یعنی وہ دونوں حضرت مسیح اور آپ کی والدہ صدیقہ کھانا کھایا کرتے تھے۔ اب آپ لوگ سمجھ سکتے ہیں کہ انسان کیوں کھانا کھاتا ہے اور کیوں کھانا کھانے کا محتاج ہے۔ اس میں اصل بھید یہ ہے کہ ہمیشہ انسان کے بدن میں سلسلہ تحلیل گا جاری ہے یہاں تک کہ تحقیقات قدیمہ اور جدیدہ سے ثابت ہے کہ چند سال میں پہلا جسم تحلیل پا کر معدوم ہو جاتا ہے اور دوسرا بدن بدل ما يتحلل ہو جاتا ہے اور ہر ایک قسم کی جو غذا کھائی جاتی ہے اس کا بھی روح پر اثر ہوتا ہے کیونکہ یہ امر بھی ثابت شدہ ہے کہ کبھی روح جسم پر اپنا اثر ڈالتی ہے اور کبھی جسم روح پر اپنا اثر ڈالتا ہے جیسے اگر روح کو یکدفعہ کوئی خوشی پہنچتی ہے تو اس خوشی کے آثار یعنی بشاشت اور چمک چہرہ پر بھی نمودار ہوتی ہے اور کبھی جسم کے آثار ہنسنے رونے کے روح پر پڑتے ہیں اب جب کہ یہ حال ہے تو کس قدر مرتبہ خدائی سے یہ بعید ہو گا کہ اپنے اللہ کا جسم بھی ہمیشہ اُڑتا رہے اور تین چار برس کے بعد اور جسم آوے ماسوا اس کے کھانے کا محتاج ہونا بالکل اس مفہوم کے مخالف ہے جو خدا تعالیٰ کی ذات میں مسلم ہے۔ اب ظاہر ہے کہ حضرت مسیح ان حاجتمندیوں سے بری نہیں تھے جو تمام انسانوں کو لگی ہوئی ہیں۔ پھر یہ ایک عمدہ دلیل اس بات کی ہے کہ وہ باوجودان در دوں اور ا المائدة : ٧٦