جلسہٴ احباب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 375 of 494

جلسہٴ احباب — Page 375

روحانی خزائن جلد ۱۲ ۳۷۳ سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب غیر عورتوں کے دیکھنے سے اپنے تئیں بچانا پڑتا ہے۔ شراب اور ہر ایک نشے سے اپنے تئیں ﴿۲۷﴾ دور رکھنا پڑتا ہے۔ خدا کے مواخذہ سے خوف کر کے حقوق عباد کا لحاظ رکھنا پڑتا ہے۔ اور ہر ایک سال میں برابر تھیں یا انتیس روز خدا تعالیٰ کے حکم سے روزہ رکھنا پڑتا ہے اور تمام مالی و بدنی و جانی عبادت کو بجالانا پڑتا ہے۔ پھر جب ایک بد بخت جو پہلے مسلمان تھا عیسائی ہو گیا تو ساتھ ہی یہ تمام بوجھ اپنے سر پر سے اتار لیتا ہے۔ اور سونا اور کھانا اور شراب پینا اور اپنے بدن کو آرام میں رکھنا اس کا کام ہوتا ہے اور یکدفعہ تمام اعمال شاقہ شاقہ سے دستکش ہو جاتا ہے اور حیوانوں کی طرح بجز اکل و شرب اور ناپاک عیاشی کے اور کوئی کام اس کا نہیں ہوتا ۔ پس اگر یسوع کے گذشتہ بالا فقرہ کے یہی معنے ہیں کہ میں تمہیں آرام دوں گا تو بیشک ہم قبول کرتے ہیں کہ در حقیقت عیسائیوں کو اس چند روزہ سفلی زندگی میں بوجہ اپنی بے قیدی کے بہت ہی آرام ہے یہاں تک کہ ان کی دنیا میں نظیر نہیں۔ وہ مکھی کی طرح ہر ایک چیز پر بیٹھ سکتے ہیں اور وہ خنزیر کی طرح ہر ایک چیز کھا سکتے ہیں ۔ ہندو گائے سے پر ہیز کرتے ہیں اور مسلمان سؤر سے مگر یہ بلانوش دونوں ہضم کر جاتے ہیں ۔ سچ ہے۔ عیسائی باش هر چه خواهی بکن “ ۔ سور کو حرام ٹھہرانے میں توریت میں کیا کیا تا کیدیں تھیں یہاں تک کہ اس کا چھونا بھی حرام تھا اور صاف لکھا تھا کہ اس کی حرمت ابدی ہے مگر ان لوگوں نے اس سؤر کو بھی نہیں چھوڑا جو تمام نبیوں کی نظر میں نفرتی تھا۔ یسوع کا شرابی کبابی ہونا تو خیر ہم نے مان لیا مگر کیا اس نے کبھی سو ر بھی کھایا تھا ؟ وہ تو ایک مثال میں بیان کرتا ہے کہ تم اپنے موتی سوروں کے آگے مت پھینکو۔ پس اگر موتیوں سے مراد پاک کلمے ہیں تو سوروں سے مراد پلید آدمی ہیں ۔ اس مثال میں یسوع صاف گواہی دیتا ہے کہ سور پلید ہے کیونکہ مشبہ اور مشبہ بہ میں مناسبت شرط ہے۔ غرض عیسائیوں کا آرام جو ان کو ملا ہے وہ بے قیدی اور اباحت کا آرام ہے۔