جلسہٴ احباب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 245 of 494

جلسہٴ احباب — Page 245

روحانی خزائن جلد ۱۲ ۲۴۳ حجة الله أهذا هو التقوى الذي في جموعكم أتلك الأمور ومثلها شأن متقى ۹۵ کیا یہی تمہاری جماعتوں کا تقویٰ ہے کیا یہ امور اور ان کی مانند متقی کی شان کے لائق ہیں وَقُلتُ لكم توبوا وكُفُّوا لسَانَكُم فما كان فيكم من يتوب ويتقى اور میں نے تمہیں کہا کہ تو بہ کرو اور زبان کو بند رکھو پس تم میں کوئی بھی ایسا نہ تھا کہ تو بہ اور تقویٰ اختیار کرتا ولله آيات لتأييد أمرنا وإنا كتبنا بعضها للمحقق اور خدا نے ہمارے امر کی تائید میں کئی نشان ظاہر کئے ہیں اور بعض کو ہم نے محققوں کے لئے لکھ دیا على قلب أهل الله نزلت سكينةٌ وقلبك يا مفتون يَعوِى وينهق اہل اللہ کے دل پر سکینت نازل ہو گئی اور تیرا دل اسے فتنہ میں پڑے ہوئے گدھے کی طرح آواز کر رہا ہے أيا لاعنى إن السعادة في التَّقَى فَخَفْ قهر ربِّ حافظ الحق وَاتَّقِ | اے میرے لعنت کرنے والے سعادت نیک بختی میں ہے پس خود نگهدارندۂ حق سے ڈر اور تقویٰ اختیار کر إذا كُتِبَ أن الموت لا بد تُدرِكُ فموت الفتى خير له من تخلق جب لکھا گیا کہ موت ضرور ہے پس مرد کا مرنا جھوٹ بولنے سے بہتر ہے ولا يفلح الإنسان إلَّا بصدقه وكل كَذُوبٍ لا محالة يُوبَقِ اور انسان محض صدق سے نجات پاتا ہے اور ہر ایک دروغگو آخر ہلاک ہوتا ہے و ما انفتحت شدقاك بالسب والهجا وتكذيب أهل الحق إلَّا لِتُمُلَقِ اور تو نے گالیوں کے ساتھ اس لئے منہ کھولا ہے اور اس لئے تکذیب کرتا ہے کہ تا محو کیا جائے وإن سقام الجسم ملتمس الشفا وليس دواء في الدكاكين للشقى اور جسم کی بیماری قابل شفا ہے مگر شقاوت کی کسی دوکان میں دوا نہیں وَوَالله لو لا حربتي لم تكد ترى نَهِيكًا تَحُطُّ ضلالةً حين تَسْمُقِ اور بخدا اگر میرا حربہ ہوتا تو تو کوئی ایسا بہادر نہ پاتا کہ گمراہی کو بلند ہونے سے روکتا وإني كتبت قصيدتي هذه لكم فمن حيكم من كان حيًّا لِيَنْمُقِ اور میں نے یہ قصیدہ تمہارے مقابلہ کیلئے لکھا ہے پس تمہارے گروہ میں ۔ اسے جو زندہ ہے وہ بھی لکھے كَبُكُم أراكم أو كأحْمِرَةِ الفلا غدَا طَلُقُ السُنكم كزوج تُطلق میں گونگوں کی طرح تمہیں دیکھتا ہوں یا جنگل کے گدھوں کی طرح اور تمہاری زبان کی روانگی ایسی کھوئی گئی جیسا کہ عورت کو طلاق دی جاتی ہے۔ نه