جلسہٴ احباب — Page 235
روحانی خزائن جلد ۱۲ ۲۳۳ حجة الله وأرسلني ربي لكفء سيولهم وغيض مياه قد عَلَتْ مِن تدفق (۸۵) اور میرے خانے مجھے بھیجا ہےتا میں اسلام کی طرف سے ان کے سیلاب کو ہٹا دوں اور تا میں ان پانیوں کو خشک کروں جو گرتے گرتے زیادہ ہو گئے ہیں وإنى من المولى وعُلِّمتُ سُبُلَهُ وأُعطيت حكمًا من خبير مُوفّق اور میں خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوں اور حکیم توفیق دہندہ سے مجھے حکمتیں عطا ہوئی ہیں فنجيتُ مِن بِدَع الزمان وفتنه أناسا أطاعوني وزادوا تعلقى پس میں نے زمانہ کی بدعتوں اور فتنوں سے ان لوگوں کو نجات دی ہے جنہوں نے میری اطاعت کی اور میرا تعلق زیادہ کیا ألم تر كيف يشق فُلكى حُبابها وتجرى على راس العدا كالمُصَفِّق | کیا تو دیکھتا نہیں کہ میری کشتی فتنہ کے بھاری پانی کو کیونکر پھاڑ رہی ہے اور دشمنوں کے سروں پر ایسی چلتی ہے کہ ایک حال سے دوسرے حال تک پہنچا دیتی ہے و أعطيت من علم الهدى وتأفَقَتُ بنا شمس جلوته فصرت كمشرق اور میں علم ہدایت دیا گیا اور اس کے جلوہ کا آفتاب مجھے پہنچا اور میری افق میں سے نکلاپس میں مشرق کی طرح ہو گیا۔ ولى آية كبرى فمن غض بصره عنادًا فمن يعطيه عين التأنق اور میرے لئے نشان عظیم ہے پس جو شخص جو شخص عناد سے اپنی آنکھ بند کرے اس کو محاسن پر غور کرنے پر غور کرنے کی کون آنکھ بخشے ألم ترفتن الدهر كيف تكتفتُ وهَبَّت رياح لا كهيجان سَوهَق کیا تو دیکھتا نہیں کہ زمانہ کے فتنے کیسے محیط ہو گئے اور ایسی ہوائیں چلیں جو تیز ہوا کا گردباد کیا ہوتا ہے فجئت من الرب الذي يرحم الورى ويُرسل غيما عند قحط مُعَنُزِق پس میں اس رب کی طرف سے آیا جو خلقت پر رحم کرتا ہے اور بادل کو تنگ کرنے والے قحط کے وقت بھیجتا ہے أنا الضيغم البطل الذي تعرفونه ثمال الصدوق مُبيدُ أهل التخلق میں وہ شیر بہادر ہوں جس کو تم پہچانتے ہو پناہ راستباز کی اور دروغ گو کو ہلاک کرنے والا على موطن يخشى الكذوب هلاكه نقوم بصَمُصَامٍ حَدِيدٍ وأَذلَقِ اس میدان میں جو جھوٹا اپنی موت سے ڈرتا ہے ہم تیز تلوار کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں فمن جاءنا في موطن الحرب والوغى يُداسُ ويُسحق كالدواء المدقق پس جو شخص لڑائی کے میدان میں ہمارے پاس آیا پس وہ پیا جائے گا جیسا کہ دوائی پیسی جاتی ہے و والله ألقيت المراسي للعدا وقمت لسلم أو لحرب مُمَزَّقِ اور بخدا میں نے دشمنوں کے لئے لنگر ڈالا ہے اور میں صلح کیلئے کھڑرہا ہوں اور یا اس لڑائی کے لئے جو ٹکڑے ٹکڑے کر نیوالی ہے