جلسہٴ احباب — Page 199
روحانی خزائن جلد ۱۲ ۱۹۷ حجة الله وأما نحن فلا يُصيبنا ضر بكلماتكم، ويرجع إليكم سهم جهلا تكم، وما تفترون كالفاسقين ۔ ۴۹ مگر ہم پس ہمیں تمہاری باتوں سے کچھ تکلیف نہیں پہنچ سکتی۔ اور تمہارے تیر تمہاری طرف ہی لوٹ جاتے ہیں اور جو کچھ تم افتراء کرتے ہو وہ وكذلك إذا اشتهر أفيكة الأفاكين على غير سفاكين، فأمدتم الهنود كالمحتالين، وقلتم إن تم پر ہی آتا ہے اور اسی طرح جب جھوٹھ باندھنے والوں نے ناحق لوگوں کو خونی بنایا جو خونی نہیں تھے۔ پس تم نے حیلہ گروں کی طرح ناحق هذا الرجل كرجلكم فخُذوه إن كان من المغتالين۔ وما قام منكم أحد لنستوفى منه اليمين، وما ہندوؤں کو مدد دی اور تم نے کہا کہ جیسا کہ لیکھرام ایساہی یہ شخص ہے پس اگر یہ قاتل ہے تو اس کو پکڑ لو اور کوئی تم میں سے کھڑا نہ ہوا تاہم كان أمر أحد منكم من غير أن يَمِينَ۔ لا تبطروا ولا تفرحوا بكثرة جمعكم، فإن الله قادر على اس سے قسم لیتے اور تمہارا اور کوئی کام نہ تھا بغیر اس کے جو جھوٹ بولو۔ مت اتر او اور نہ اپنی کثرت کے ساتھ خوش ہو کیونکہ خدا تمہاری بیخ کنی قمعـكـم۔ فاجتنبوا البطر مرتاعين۔ ولا تقولوا إن الزحام جمعوا عليك لاعنين، وقد كذب پر قادر ہے پس ڈرتے ہوئے اترانے سے پر ہیز کرو اور یہ مت کہو کہ لوگ تجھ پر بالا تفاق لعنت کرتے ہیں۔ اور پہلے اس سے رسولوں کی الرسل من قبل وأُوذوا ولعنوا ، حتى إذا جاء أمر الله فسود وجوه المكذبين۔ تکذیب کی گئی اور دکھ دیئے گئے اور لعنت کئے گئے ۔ یہاں تک کہ جب خدا کا امر آیا تو مکذبوں کا مونہ کالا کیا گیا۔ وقد جرت عادة الله في أوليائه، و نُخب أصفيائه، أنهم اور خدا تعالیٰ کی عادت اسکے اولیاء اور برگزیدوں میں اس طرح پر جاری ہوئی ہے کہ وہ اپنے ابتداء امر میں دکھ يؤذون في مبدء الأمر، ويُسلط عليهم أوباش من الزمر، فيسبونهم دیئے جاتے ہیں اور اوباش آدمی ان پر مسلط کئے جاتے ہیں۔ پس وہ اوباش انکو گالیاں دیتے ہیں اور بد زبانی کرتے ويشتمونهم ويكفرونهم مستهزئين ۔ ولا يبالون الافتراء ، ويقولون فيهم ہیں اور ٹھٹھا کرتے ہوئے کا فر ٹھہراتے ہیں اور افتراؤں کی کچھ پرواہ نہیں کرتے اور طرح طرح کی باتیں ان کے حق أشياء ، ويُغرى بعضهم بعضا بأنواع المكر والتدابير، ولا يغادرون میں کہتے ہیں ۔ اور ان کے بعض بعض کو طرح طرح کے مکروں اور تدبیروں سے اکساتے ہیں اور جھوٹ اور فریب سے