جلسہٴ احباب — Page 181
روحانی خزائن جلد ۱۲ ۱۷۹ حجة الله ما عُصم من ألسنهم خاتم النبيين، بل الله الذي هو أحكم الحاكمين، ولا خلفاء ﴿٣١﴾ جوان کی زبان سے خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم بھی بچ نہیں سکے بلکہ وہ خدا بھی جو احکم الحاکمین ہے اور نہ رسول اللہ علی نبي الله ولا أمهات المؤمنين۔ کے خلیفے ان کی زبان سے بچے اور نہ ازواج آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو امہات المومنین تھیں۔ ألا ترى كيف ظنّوا ظن السوء فى حضرة أصدق الصادقين، وكذبوا نبأ "الاستخلاف" کیا تو نہیں دیکھتا کہ ان لوگوں نے حضرت اصدق الصادقین میں کس طرح ظن بد کیا۔ اور استخلاف کی پیشگوئی کی تکذیب کی ۔ اور کہا کہ علی وقالوا إن عليا من المظلومين، فأرادوا هدم ما شاد الرحمن، وكفروا بما جاء به القرآن، وما | مظلوم ہے۔ پس ان لوگوں نے اس عمارت کو مسمار کرنا چاہا جس کو خدا نے بنایا اور قرآنی اخبار کی تکذیب کی اور یہ صریح ظلم ہے اور ان هذا إلا ظلم مبين ۔ وقالوا إن عليا أنفد عمره مُبتلى بلَقُوَةِ النفاق، وما خُلِقَ في طينته جرأة لوگوں نے کہا کہ علی تمام عمر نفاق کے لقوہ میں مبتلا رہا اور اس کی طینت میں راست گوئی کی جرات پیدا نہیں کی گئی تھی اور اس نے ظاہر و باطن الصدق وما تفوَّقَ دَرَّ إخلاص الأخلاق، وإذا استخلف الكفار فما أبى، بل أطاعهم وعقد ایک بنانے کا دودھ نہیں پیا تھا اور جب کفار کو خلافت ملی تو اس نے انکار نہ کیا بلکہ اطاعت کی اور پیٹھ اور پنڈلی کو معہ اپنے رفیقوں کے لهم مع رفقته الحبا ۔ أَمَرَ أمر الإسلام فآثر الإنصات، وأُمِّرَ الفُسّاق فمعهم أكل وبات، وما | ان کے لئے باندھا۔ اسلام کا امر مشکل ہو گیا پس اس نے خاموشی کو اختیار کیا اور فاسق امیر کئے گئے پس اس نے ان کے ساتھ کھایا اور ذمهم بل أنشد فى حمدهم الأبيات، وكان هذا خُلقه حتى مات، أهذا هو أسد المتشيعين؟ شب باشی اختیار کی اور ان کی بدگوئی نہ کی بلکہ ان کی تعریف میں شعر بنائے اور یہی اس کا خلق تھا یہاں تک کہ مر گیا کیا یہی شیعوں کا شیر ہے؟ وقالوا إنه عارض أُمَّه الصدّيقة، وما بالى الشريعة ولا الطريقة، ولم يكن اور کہتے ہیں کہ اس نے اپنی ماں صدیقہ کا مقابلہ کیا اور نہ شریعت کی کچھ پروا رکھی اور نہ طریقت کی برا بوالدته ولا تقيا ، بل أعق وصار جبّارًا شقيًّا۔ آثر النفاق ولم يصبر اور اپنی ماں سے نیکوکار نہیں تھا بلکہ عاق اور جبار اور شقی تھا۔ نفاق کو اختیار کیا اور سختی