جلسہٴ احباب — Page 178
روحانی خزائن جلد ۱۲ ۱۷۶ حجة الله ۲۸ خسر في الدنيا والدين يسبنى ويشتمنى بطغواه، ولا ينظر إلى مال ساب من "الآرية" جو دین اور دنیا میں نقصان اٹھانیوالا ہے اپنے حد سے گزر جانیکے سبب سے مجھے گالیاں دیتا ہے اور نہیں دیکھتا کہ آریہ گالیاں دینے والے کا ومأواه، وإن السعيد من اتعظ بسواه ۔ وأنـى لـه الرشد والهدى، وإنه لا يعلم ما التقى، ولا کیا انجام ہوا۔ اور نیک بخت وہ ہوتا ہے جو دوسرے کے حال سے نصیحت پکڑتا ہے اور اس کو رشد اور ہدایت کہاں نصیب ہو وہ تو نہیں جانتا الأدب المنتقى، وإنه سلك سُبل الهالكين ۔ لا يُبالى الحشر وأهواله، ولا قَهُرَ الله ونكاله کہ پر ہیز گاری کس کو کہتے ہیں اور نہ ادب برگزیدہ کی اس کو خبر ہے۔ اور وہ مرنیوالوں کی راہ چلا ہے قیامت اور اس کے خوفوں کی کچھ پروا نہیں رکھتا۔ وكل ما كتب فليس إلا ككيد، أو أحبولة صيد، أراد أن يفتن قلوب الجماعة، بافتنانه في اور نہ خدا کے قہر اور وبال سے ڈرتا ہے۔ اور جو کچھ اس نے لکھا وہ ایک مکر ہے۔ یا دام صید ہے۔ اس نے البراعة، وأرعف كفه اليراع، ليُرِى السفهاء البَعاعَ ، ولكنه هتك أستاره، وأرى في كل قدم ارادہ کیا کہ اپنی جماعت کے دلوں کو تفنن کلام کے ساتھ فریفتہ کرے۔ اور اس کے ہاتھ نے قلم کو رواں کیا تا نا دانوں کو اپنی متاع دکھلائے مگر اس مانے نے اپنے عثاره، وأفضى في حديث يُفضحه، ودخل نارًا تلفحه، فمثله كمثل رجل شهر خزيه بدفه، أو | پردے پھاڑ دیئے اور ہر ایک قدم میں اپنی لغزش دکھلائی اور اس بات کو شروع کیا جو اس کو رسوا کرے گی اور اس آگ میں داخل ہوا جو اس کو جلا دے گی پس اس جدع مارن أنفه بكفّه، فلحق بالملومين المخذولين ۔ ومع ذلك سبني ليجير فقدان فضل کی اس شخص کی مثال ہے جس نے اپنی رسوائی کو اپنے دف کے ساتھ مشہور کی یا اپنی ناک کو اپنے ہاتھ کیساتھ کاٹا۔ پس ملامت اٹھانیوالے اور گمنام لوگوں میں بيانه بفضول لسانه، وأما نحن فلا نتأسف على ما قلى وقال، ولا نطيل فيه المقال، فإنه من جالا۔ اور باوجود اس کے مجھ کو گالیاں دیں تا اپنی بیہودہ گوئی سے اپنی ژولیدہ بیانی کو پناہ دیوے۔ مگر ہم اس کی دشمنی اور قول پر کچھ تاسف نہیں کرتے اور نہ اس میں قوم تعودوا السب والانتصاب للإزراءات، وحسبوه لأنفسهم من أعظم الكمالات کچھ زیادہ کہنا چاہتے ہیں کیونکہ وہ ایک ایسی قوم میں سے ہے جن کو گالیاں دینے اور عیب گیری کی عادت ہے۔ اور اس عادت کو انہوں نے اپنا کمال سمجھا ہوا ہے۔ فنستكفى بالله الافتنان بمفترياته، ونعوذ به من نياته وجهلاته، وما نعطف إلى السب پس ہم ان کے فتنہ میں مبتلا ہونے سے خدا کو اپنے لئے کافی جانتے ہیں اور اس کی نیتوں سے خدا کی پناہ ڈھونڈتے ہیں اور ہم گالی کی طرف رجوع نہیں کرتے