جلسہٴ احباب — Page 166
روحانی خزائن جلد ۱۲ ۱۶۴ حجة الله ان کے ہاتھ پر تو بہ کروں گا اور اس طریق سے روز کا جھگڑا طے ہو جائے گا اور اس کے بعد جو شخص مقابل پر نہ آیا تو پبلک کو سمجھنا چاہیے کہ وہ جھوٹھا ہے۔ اور یہ کہنا کہ ممکن ہے کہ تم کسی دوسرے سے لکھوا کر اپنے نام پر پیش کرو گے۔ اس کا جواب اسی قدر کافی ہے کہ ایسا دوسرا عربی دان تمہیں بھی مل سکتا ہے۔ بلکہ تم جو ہر وقت لاف مارتے ہو کہ تمہارے ساتھ ہزاروں علماء ہیں اور حسب زعم تمہارے میرے ساتھ صرف جاہلوں یا منشیوں کا گروہ ہے تو اب تمہیں شرم نہیں آتی کہ ایسی باتیں مونہہ پر لاؤ۔ تمہارے پاس تو مدد دینے کے لئے زیادہ سامان ہیں۔ کسی ادیب کے آگے ہاتھ جوڑ و یا ضرورت کے وقت اس کے قدموں پر ہی گر جاؤ۔ آخر وہ رحم کرے گا اور تمہیں کچھ بنادے گا اور پھر یہ بھی ہے کہ یہ تحریر گو میری ہو یا تمہارے پاگلا نہ خیال سے کسی اور کی ۔ اس سے تمہیں کیا غرض اور کیا واسطہ جبکہ میں اس پر حصر رکھتا ہوں کہ اس تحریر کی نظیر پیش ہونے سے میں سمجھ لوں گا کہ میں کا ذب ہوں تو تمہاری طرف سے کوشش ہونی چاہیے کہ اس کی نظیر پیش کرو۔ اگر تم سچے ہو تو ضرور اپنی کوشش میں کامیاب ہو جاؤ گے کیونکہ خدا سچوں کو ضائع نہیں کرتا اور اس کے عزیز ذلیل نہیں ہوتے اور میں مکر رکہتا ہوں کہ اسی میعاد میں تمہیں بالمقابل رسالہ شائع کر دینا چاہیے جس میعاد میں ابتدائے سترہ مارچ ۱۸۹۷ء سے میرا رسالہ شائع ہو۔ اگر اس میں تخلف ہوگا تو پھر تمہارے بے ہودہ عذرات کی طرف التفات نہیں کیا جائے گا۔ اب میں عربی رسالہ لکھتا ہوں ۔ وما توفيقى الَّا بِالله رَبِّ انْصُرْنِي مِن َلدُنكَ رَبِّ ايدني مِن لَدُنكَ رَبِّ انّ قومی طردونی فاونى مِنْ لَدُنكَ رَبِّ ان قومی لعنونی فارحمني من لدنك ارحمني يا ربّ الارض والسماء۔ ارحمني يا ارحم الرحماء و لا راحم الا انت۔ انك انت حبي في الدنيا والآخرة و انت ارحم الراحمين۔ توكلت عليك وانت لا تضيع المتوكلين۔