جلسہٴ احباب — Page 146
روحانی خزائن جلد ۱۲ ۱۴۴ حجة الله على الحضرة الأحديّة ۔ وأراد الله أن يرفعه فأخلد إلى الأرض بر حضرت احدیت مقدم داشت و خدا تعالی خواست که او را بر دارد پس او ہمچو فاسقاں سوئے حضرت احدیث پر مقدم رکھا۔ اور خدا تعالیٰ نے چاہا کہ اس کو اٹھاوے۔ پس وہ فاسقوں کی طرح كالفاسقين ۔ وليس في نفسـه جـوهـر من غير تصلّف كالنسوان و زمین میل کرد و در هر نفس او بجز لاف زنی همچو زنان زمین کی طرف جھک گیا۔ اور اس میں بجز لاف زنی کے و اور بغرض دھو کہ زبان آرائی خدع الناس بتزويق اللسان، وإنّه من المزوّرين ۔ يريد أن يُطفأ نورا، آراستن زبان برائے فریب دادن مردم بیچ جو ہرے نیست و او از دروغ آرایان است اراده کرنے کے اور کوئی جو ہر نہیں اور وہ جھوٹ کو آرائش دینے والوں میں سے ہے۔ ارادہ ظلما وزورا، ويزيد الناس رهقًا وكفورًا، ويصرف عن میکند که از ظلم و زور نور را بمیراند و مردم را در ظلم و کفران زیاده کند و جاهلان را ز حق کرتا ہے کہ نور کو بجھادے۔ اور لوگوں کو ظلم اور کفران میں زیادہ کرے۔ اور حق سے بازگرداند الحق قوما جاهلين ۔ ووالله إنّه لا يعلم ما البلاغة وأفنانها، وكيف و بخدا که اونمی داند که بلاغت چیست و شاخہائے آن چیست و چگونه جاہلوں کو پھیر دے۔ اور بخدا وہ نہیں جانتا کہ بلاغت کسے کہتے ہیں اور اس کی شاخیں يحق أداءها وبيانها، وما وصل مقاما من مقامات فهم الكلام، و و حق بیان او ادا می تواند شد و از مقامات فهم کلام به پیچ مقامی نرسیده ۔ کیا ہیں۔ اور کیونکر اس کے بیان کا حق ادا ہوتا ہے اور فہم کلام کے مقامات میں سے کسی مقام تک إن هو كالأنعام، ومن المحرومين۔ صرف مانند چار پایان و محرومان است - وہ نہیں پہنچا۔ اور صرف چار پایوں اور محروموں کی طرح ہے۔ فالأمر الذي يُنجي الناس من غوائل تزويراته، و هباء پس امری که مردم را از دروغ گوئی او رہائی بخشد ۔ پس وہ بات جو لوگوں کو اس کے جھوٹ سے نجات دے گا یہ ہے کہ سہو کتابت معلوم ہوتا ہے دے گی “ ہونا چاہیے۔(ناشر)