ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 635
روحانی خزائن جلد ۳ ۶۳۵ ازالہ اوہام حصہ دوم وہ امر خارق عادت ظاہر ہو جو اس نے ارادہ کیا ہے۔ مولوی صاحب نور اللہ کے بجھانے کے لئے بہت زور سے پھونکیں مار رہے ہیں۔ دیکھئے اب سچ مچ وہ نور بجھ جاتا ہے یا کچھ اور کرشمہ قدرت ظہور میں آتا ہے ۔ ۹ را پریل ۱۸۹۱ء کے خط میں جو انہوں نے میرے ایک دوست مولوی ۱۵ سید محمد احسن صاحب کے نام بھوپال میں بھیجا تھا عجیب طور کے فقرات تحقیر کے استعمال کئے ہیں۔ آپ سید صاحب موصوف کو لکھتے ہیں کہ آپ اس شخص پر جلدی سے کیوں ایمان لے آئے اس کو ایک دفعہ دیکھ تو لیا ہوتا ۔ مولوی صاحب نے اس فقرہ اور نیز ایک عربی کے فقرہ سے یہ ظاہر کرنا چاہا ہے کہ یہ شخص محض نالائق اور علمی اور عملی لیاقتوں سے بکلّی بے بہرہ ہے او ہ ہے اور کچھ بھی چیز نہیں۔ چیز نہیں۔ اگر تم دیکھو تو اس سے نفرت کرو مگر بخدا یہ سچ اور بالکل سچ ہے اور قسم ہے مجھے اُس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ در حقیقت مجھ میں کوئی علمی اور عملی خوبی یا ذہانت اور دانشمندی کی لیاقت نہیں اور میں کچھ بھی نہیں۔ ایک غیب میں ہاتھ ہے جو مجھے تھام رہا ہے اور ایک پوشیدہ روشنی ہے جو مجھے منور کر رہی ہے اور ایک آسمانی روح ہے جو مجھے طاقت دے رہی ہے۔ پس جس نے نفرت کرنا ہے کرے تا مولوی صاحب خوش ہو جا ئیں بخدا میری نظر ایک ہی پر ہے جو میرے ساتھ ہے۔ اور غیر اللہ ایک مرے ہوئے کیڑے کے برابر بھی میری نظر میں نہیں۔ کیا میرے لئے وہ کافی نہیں جس نے مجھے بھیجا ہے۔ میں یقینا جانتا ہوں کہ وہ اس تبلیغ کو ضائع نہیں کرے گا جس کو لے کر میں آیا ہوں ۔ مولوی صاحب جہاں تک ممکن ں تک ممکن ہے لوگوں کو نفرت دلانے کے لئے زور لگا لیں اور کوئی دقیقہ کوشش کا اُٹھا نہ رکھیں اور جیسا کہ وہ اپنے خطوط میں اور اپنے رسالہ میں اور اپنی تقریروں میں بار بار ظاہر کر چکے ہیں کہ یہ شخص نادان ہے جاہل ہے گمراہ ہے مفتری ہے دوکاندار ہے بے دین ہے کافر ہے ایسا ہی کرتے رہیں اور مجھے ذرہ مہلت نہ دیں مجھے بھی اس ذات کی عجیب قدرتوں کے دیکھنے کا شوق ہے جس نے مجھے بھیجا ہے۔ لیکن اگر کچھ تعجب ہے تو اس بات پر ہے کہ باوجود اس کے کہ یہ عاجز مولوی صاحب کی نظر میں جاہل ہے بلکہ خط مذکورہ بالا میں یقینی طور پر مولوی صاحب نے لکھدیا ہے کہ یہ شخص ملہم نہیں یعنی مفتری ہے اور یہ دعوی جو اس عاجز نے کیا ہے مولوی صاحب کی نظر میں بدیہی البطلان ہے ﴿۱۶﴾ دم