ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 624
روحانی خزائن جلد ۳ ۶۲۴ ازالہ اوہام حصہ دوم اس جگہ اخویم مولوی مردان علی صاحب صدر محاسب دفتر سر کار نظام حیدر آباد دکن بھی ذکر کے لائق ہیں ۔ مولوی صاحب موصوف نے درخواست کی ہے کہ میرا نام سلسلہ بیعت کنندوں میں داخل کیا جاوے۔ چنانچہ داخل کیا گیا۔ اُن کی تحریرات سے نہایت محبت و اخلاص پایا جاتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ میں نے سچے دل سے پانچ برس اپنی عمر میں سے آپ کے نام لگا دئے ہیں۔ خدا تعالیٰ میری عمر میں سے کاٹ کر آپ کی عمر میں شامل کر دے سو خدا تعالیٰ اس ایثار کی جزا ان کو یہ بخشے کہ اُن کی عمر دراز کرے۔ انہوں نے اور اخویم مولوی ظہور علی صاحب اور مولوی غضنفر علی صاحب نے نہایت اخلاص سے دس دس روپیہ ماہواری چندہ دینا قبول کیا ہے اور بہتر روپیہ امداد کے لئے بھیجے ہیں۔ جزاهم الله خير الجزا۔ والصلوة والسلام على نبينا ومولانا محمد واله واصحابه وجميع عباد الله الصالحين۔ راق ۷۲ خاکسار غلام احمد از لودھیا نه محله اقبال گنج له یہ ثابت کر چکے ہیں کہ توفی کا لفظ عموما محاورہ کی رُو سے یہی معنے رکھتا ہے کہ روح کا قبض کرنا لیکن جسم کا قبض کرنا قرآن کریم کے کسی لفظ سے ثابت نہیں ہوتا ۔ پس جب کہ توفی کا لفظ صرف روح کی قبض کرنے میں محدود ہوا تو مسیح ابن مریم کا جسم آسمان کی طرف اُٹھایا جانا قرآن کریم کے کسی لفظ سے ثابت نہ ہو سکا۔ ظاہر ہے کہ جس چیز کو اللہ تعالی قبض کرتا ہے اٹھاتا بھی اُسی کو ہے اور یہ وعدہ بھی قرآن کریم میں ہو چکا ہے کہ لاشیں قبروں میں سے بروز حشر اٹھیں گی ۔ اس صورت میں اگر فرض محال کے طور پر مسیح ابن مریم قبر میں سے اٹھے تو پھر نزول غلط ٹھہرے گا۔ بعض کہتے ہیں کیا یہ ممکن نہیں کہ مسیح سونے کی حالت میں اٹھایا گیا ہو اور پھر آخری زمانہ میں آسمان پر جاگ اٹھے اور زمین پر نازل ہو مگر یہ لوگ نہیں سمجھتے کہ جسم کا اٹھایا جانا قرآن کریم سے ہرگز ثابت نہیں ہوتا ۔ تو فی صرف روح کے قبض کرنے کو کہتے ہیں خواہ بحالت نوم قبض ہو یا بحالت موت پس جو چیز قبض کی جائے وہی اٹھائی جائے گی۔ اور یہ ہم ثابت کر آئے ہیں کہ مسیح کی توفی