ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 618
روحانی خزائن جلد ۳ ۶۱۸ ازالہ اوہام حصہ دوم بقیہ حاشیہ منظور کرائیں ۔ مگر منسوخ شدہ آیتوں کے بعد پھر کوئی نئی آیت نازل نہ ہوئی ۔ اب کیا یہ سمجھ میں آ سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے احکام اس قدر کچے اور بے ثبات اور تعارض سے بھرے ہوئے ہیں کہ اول پچاس نمازیں مقرر ہو کر پھر پختہ طور پر ہمیشہ کے لئے پانچ نمازیں مقرر کی جائیں۔ پھر تخلف وعدہ کر کے پانچ کی پچاس بنائی جائیں۔ پھر کچھ رحم فرما کر ہمیشہ کے لئے پانچ کر دی جائیں ۔ پھر بار بار وعدہ توڑ دیا جائے اور بار بار قرآن کریم کی آیتیں منسوخ کی جائیں اور حسب منشاء آیت کریمہ نَأْتِ بِخَيْرٍ مِنْهَا أَوْ مِثْلِهَا لے اور کوئی آیت ناسخہ نازل نہ ہو۔ در حقیقت ایسا خیال کرنا وحی الہی کے ساتھ ایک بازی ہے جن لوگوں نے ایسا خیال کیا تھا ان کا یہ مدعا تھا کہ کسی طرح تعارض دور ہو لیکن ایسی تاویلوں سے ہرگز تعارض دور نہیں ہو سکتا بلکہ اور ۹۴ بھی اعتراضات کا ذخیرہ بڑھتا ہے۔ اور کتاب التوحید کی حدیث جو بخاری کے صفحہ ۱۱۲۰ میں ہے جس میں قبل ان يوحی الیہ لکھا ہے یہ خود اپنے اندر تعارض رکھتی ہے کیونکہ ایک طرف تو یہ لکھدیا کہ بعثت کے پہلے یہ معراج ہوا تھا اور پھر اُسی حدیث میں یہ بھی لکھا ہے کہ نمازیں پانچ مقرر کر کے پھر آخر کار ہمیشہ کے لئے پانچ مقرر ہوئیں ۔ اب ظاہر ہے کہ جس حالت میں یہ معراج نبوت سے پہلے تھا تو اس کو نمازوں کی فرضیت سے کیا تعلق تھا اور قبل از وحی جبرائیل کیوں کر نازل ہو گیا اور جو احکام رسالت سے متعلق تھے وہ قبل از رسالت کیوں کر صادر کئے گئے ۔ غرض ان احادیث میں بہت سے تعارض ہیں۔ اگر چہ یہ نہیں کہا جاتا کہ یہ حدیثیں موضوع ہیں بلکہ قدر مشترک ان کا بشرطیکہ قرآن سے معارض نہ ہو قابل تسلیم اور واجب العمل ہے ۔ ہاں یہ بھی ضروری ہے کہ نصوص بینہ قطعیہ قرآن کریم کو اُن پر مقدم رکھا جائے ۔ اور اگر ایک محدث جس کو خدا تعالیٰ سے بذریعہ متواتر تعلیمات ایک علم قطعی یقینی ملا ہے ۔ قرآن سے اپنی وحی تحدیث کو موافق و مطابق پاکر ان احادیث کو جو اخبار و قصص سے متعلق ہیں اور تعامل کے سلسلہ سے باہر ہیں مقدم سمجھے اور ان ظنی امور کو اس یقین کے تابع کرے جو اس کو ایسے البقرة : ١٠٧