ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 581
روحانی خزائن جلد ۳ ۵۸۱ ازالہ اوہام حصہ دوم سے چاہیں مجھے ذبح کر دیں لیکن آپ نے اس کے جواب میں بھی دم نہ مارا۔ اگر آپ کو بھی سچی خوا میں آتی ہیں اضغاث احلام نہیں اور اعتماد کے لائق ہیں تو میرے مقابل پر آپ کیوں چپ رہے کیا آپ کے دروغ بے فروغ پر اس سے زیادہ کوئی اور دلیل ہوگی ۔ اور میں تو اب بھی حاضر ہوں ۔ میدان میں کھڑا ہوں ۔ یقیناً یا د رکھیں کہ وہ نور جو آسمان سے اترا ہے آپ کی منہ کی پھونکوں سے بجھ نہیں سکتا۔ آپ اپنے منہ کی فکر کریں۔ ایسا نہ ہو کہ پھونکیں مار ۔ پھو میں مارتے مارتے ایک شعلہ اُٹھے اور آپ کے منہ کی مسخی صورت بنادے۔ من عادی کی حدیث آپ کو یاد نہیں جس کو ارادت کی راہ سے میری طرف لکھا کرتے تھے۔ اب آپ نے مجھے مفتری بنایا ۔ ۸۸۲ کاذب قرار دیا۔ مکار نام رکھا۔ دجال کے اسم سے موسوم کیا مگر اپنے ہی ریویو کی وہ عبارتیں آپ کو یاد نہ رہیں جو آپ براہین احمدیہ کے ریویو نمبر ۶ جلد سات سے میں لکھ چکے ہیں چنانچہ آپ بغرض تعریف و توصیف کتاب موصوف کے صفحہ ۲۸۴ میں لکھتے ہیں۔ مؤلف براہین احمدیہ کے حالات و خیالات سے جس قدر ہم واقف ہیں ہمارے معاصرین ایسے واقف کم نکلیں گے۔ مؤلف صاحب ہمارے ہموطن بلکہ اوائل عمر کے ہمارے ہم مکتب ہیں اس زمانہ سے آج تک خط و کتابت و ملاقات و مراسلت برابر جاری ہے۔ (۲۸۴) مؤلف براہین احمد یہ مخالف و موافق کے تجربہ اور مشاہدہ کی رو سے والله حسيبه شریعت محمدیہ پر قائم اور پر ہیز گار و صداقت شعار ہیں (ص ۱۶۹) کتاب براہین احمد یہ ( یعنی تالیف اس عاجز کی ) ایسی کتاب ہے جس کی نظیر آج تک اسلام میں تالیف نہیں ہوئی۔ اور اس کا مؤلف اسلام کی مالی و جانی وقلمی ولسانی وحالی وقالی نصرت میں ایسا ثابت قدم نکلا ہے جس کی نظیر پہلی کتابوں میں بہت ہی کم پائی گئی ہے۔ اے خدا اپنے طالبوں کے رہنما ان پر ان کی ذات سے ان کے ماباپ سے تمام جہان کے مشفقوں سے زیادہ رحم کر اور اس کتاب کی محبت لوگوں کے دلوں میں ڈالدے اور اس کی برکات سے مالا مال کر دے اور اس خاکسار شرمسار گنہگار کو بھی اپنے فیوض و انعامات اور اس کتاب کی اخص برکات سے فیضیاب کر۔آمین و للارض من كاس الكرام نصیب صفحہ ۳۴۸۔ ۸۸۳